خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 553 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 553

خطبات ناصر جلد هشتم ۵۵۳ خطبه جمعه ۲۵ جنوری ۱۹۸۰ء اُس کو باندھا تا کہ چھلانگ مار کے انسان کا دماغ ( خدا تعالیٰ کے حدود تو اگر نہ ہوتے ) اور حدود سے تجاوز کر کے وہ شیطان کی گود میں نہ چلا جائے لیکن اب ہر چیز جو ہے وہ واضح کر دی گئی ہے۔جو جائز ہے وہ بھی واضح کتاب مبین ہے ہمارے پاس۔جو ناجائز ہے وہ بھی واضح۔اچھی طرح کھول کے بیان کرنے والی کتاب ہے ہمارے ہاتھ میں دی گئی۔تو پاک اور ستھری تجارت ہے۔تجارت کے متعلق دو اصول کا یہاں ذکر کیا ہے۔ایک تو خود تجارت جو ہے وہ درست ہونی چاہیے۔بتائے ہوئے طریق پر ہونی چاہیے، خدا تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق۔دوسرے یہ ہے کہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص دوسرے سے مثلاً گندم خریدنا چاہتا ہے۔قیمت صحیح دینا چاہتا ہے وغیرہ وغیرہ لیکن وہ دوسرا اس کو دینے پر رضامند نہیں ہے۔تو کوئی شخص مالک کی مرضی کے بغیر کسی کے گھر سے گندم کی سو بوریاں اٹھا کے اپنے گھر لا کے منڈی کی قیمت دے کے اس الزام سے بچ نہیں و سکتا خدا کی نگاہ میں کہ اس نے مالک کی رضا مندی کے بغیر وہ گندم وہاں سے اٹھالی تو عَن تراض منكم کہ ایک تو تجارت اصول کے مطابق ہو۔دوسرے ہر دو کی رضا مندی کے ساتھ وہ تجارت کی جائے۔یہ جو باہمی رضا مندی ہے اس کی آگے بڑی لطیف اور لمبی تفصیل ہے۔مثلاً کوئی خریدار کبھی راضی نہیں ہوتا کہ مجھے کھوٹ دے دو، مجھے کرم خوردہ دے دو، مجھے اپنے وعدے کی تاریخ سے چھ مہینے یا سال کے بعد دے دو۔جس نے آج گندم کھانی ہے وہ تو آج مانگ رہا ہے۔اگر اس نے پندرہ دن بعد کا سودا کیا ہے پندرہ دن بعد اس کو ملنی چاہیے۔پھر بین الاقوامی تجارتوں میں تو سال سال، دو دو سال پہلے معاہدے ہو جاتے ہیں۔اب ۱۹۸۰ ء ہے معاہدہ ہو جائے گا کہ یہ مال ہمیں ۱۹۸۲ ء کے مارچ میں تم دے دو۔تو یہ ہے باہمی رضامندی اس کے مطابق تجارت ہو اس کی لمبی تفصیل ہے اشارے میں اس وقت کر رہا ہوں بات سمجھانے کے لئے۔یہاں اللہ تعالیٰ نے عظیم قانون تجارت کا جو ہے اس کی طرف بھی اشارہ کیا اور جو باہمی رضا مندی کی تفاصیل دوسری جگہ آتی ہیں قرآن کریم میں ان کی طرف ایک چھوٹے سے فقرہ میں چند الفاظ میں فقرہ نہیں ، فقرے کے ایک حصے میں اس کو بیان کر دیا۔پانچویں یہ کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ اعلان کیا کہ دیکھو ہم تمہیں نا حق اور ناجائز طور پر