خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 509
خطبات ناصر جلد هشتم خطبه جمعه ۲۱ دسمبر ۱۹۷۹ء وہاں تک پہنچیں۔آیت کے جو بنیادی معنی ہیں وہ یہ ہیں کہ ایک ایسی ظاہری علامت ، جو کسی مخفی حقیقت کی طرف انسان کو لے جاتی ہے تو یہ ساری آیات ایک بنیادی حقیقت کی طرف لے جانے والی ہیں وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی وحدانیت ہے۔تو كَفَرُوا بِایتِ رَبِّهِم خدا تعالیٰ نے جس غرض سے ان آیات کو نازل کیا تھا خواہ وہ مادی دنیا میں جلوے ظاہر ہوئے اس کی صفات کے خواہ وہ روحانی دنیا میں جلوے ظاہر ہوئے اس کی صفات کے انہوں نے ان آیات کا انکار کیا اور پہچانا نہیں اور جلوے اس لئے ظاہر ہوئے تھے کہ لقائے باری انسان کو حاصل ہو اور چونکہ انہوں نے آیات ہی کو نہیں پہچانا ان کا انکار کیا۔نہ مادی دنیا کی آیات سے نہ کائنات میں ظاہر ہونے والی آیات سے جو خدا تعالیٰ کی طرف نشاندہی کرنے والی تھیں، ہمیں راستہ دکھانے والی تھیں خدا کی وحدانیت کا نہ ان سے فائدہ اٹھایا نہ خدا تعالیٰ کا کلام جب نازل ہوا رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نہ اس سے فائدہ اٹھایا اور جس غرض سے یہ آیات نازل ہوئی تھیں کہ یہ ان کو بتایا جائے کہ تم بے سہارا نہیں ، تمہارا ایک سہارا ہے، تمہاری پیدائش کی ایک غرض ہے۔تمہیں اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ تمہارا اس ور لی زندگی میں بھی اپنے زندہ خدا سے ایک زندہ تعلق پیدا ہو تو پانچویں بات ہمیں یہ بتائی کہ وہ انہوں نے انکار کیا خدا تعالیٰ کی لقا سے یعنی وصل الہی اس دنیا میں ممکن ہی نہیں۔نہ آیات کو مانا اور پہچانا نہ اس غرض سے واقف ہوئے اور اس کے لئے کوشش کی جس غرض کے لئے ان پر دو قسم کی آیات کو نازل کیا گیا تھا۔اس کا نتیجہ ظاہر ہے فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ چھٹی بات یہ ہے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اعمال، ان کی کوششیں ان کا مقصود جو تھا ان کا تعلق آسمانی رفعتوں کے ساتھ نہیں تھا۔ان کا تعلق اس بات سے نہیں تھا کہ وہ اپنی زندگی اس رنگ میں گزاریں کہ خدا تعالیٰ کی محبت اور پیار کو حاصل کرنے والے ہوں۔زمین کی طرف وہ جھک گئے اور دنیا سے انہوں نے تسلی پالی اور ایک عارضی خوشی جو تھی اس دنیا کی اسی کو سب کچھ سمجھ لیا اور ابدی خوشیوں کو اس عارضی خوشی پر قربان کر دیا۔حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ ان کے اعمال گر کر اسی دنیا کے ہوکر رہ گئے۔