خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 411 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 411

خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۱۱ خطبه جمعه ۱۲/اکتوبر ۱۹۷۹ء اللہ صبر واستقامت دکھانے والوں سے وعدوں کے مطابق پیار کرے گا خطبه جمعه فرموده ۱۲ اکتوبر ۱۹۷۹ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل دو آیات قرآنیہ کی تلاوت فرمائی:۔فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ وَلَا يَسْتَخِفَنَّكَ الَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ۔(الروم : ٦١ ) فَاصْبِرُ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِي وَالْإِبْكَارِ - (المؤمن : ۵۶) اس کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔قرآن عظیم میں صبر کے موضوع پر ایک سو سے زائد آیات میں بیان ہوا ہے۔یہ ایک بنیادی حکم ہے جس کا تعلق تمام قرآنی احکام سے ہے اوامر ہوں یا نوا ہی ہوں۔صبر کے معنی ہیں جیسا کہ میں نے ایک پہلے خطبے میں بھی ذرا تفصیل سے بیان کیا تھا اصل معنی اس کے یہ ہیں کہ حَبْسُ النَّفْسِ عَلَى مَا يَقْتَضِيْهِ الْعَقْلُ وَالشَّرُ أَوْ إِمَّا يَقْتَضِيَانِ حَبْسَهَا عَنْهُ نفس کو رو کے رکھنا قابو میں رکھنا ان چیزوں کے کرنے نہ کرنے سے جو عقل کا تقاضا ہو یعنی فطرتِ انسانی کا حکم ہو یا شریعت اسلامیہ کا تقاضا ہو اور مفردات راغب نے لکھا ہے کہ یا ہر دو کا تقاضا ہو۔