خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 312 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 312

خطبات ناصر جلد هشتم ۳۱۲ خطبه جمعه ۳/اگست ۱۹۷۹ء سے ایک تو تمہارا اپنا مشاہدہ تعلق رکھتا ہے ایک تو تمہارا اپنا حصول علم تعلق رکھتا ہے مثلاً کلاس میں بیٹھا ہوا طالب علم اگر کان کھول کے نہ رکھے تو فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔تو رَبّ زِدْنِي عِلْمًا (طه: ۱۱۵) کی دعا میں یہ ساری چیزیں آگئیں۔تو یہ جتنی نعمتیں ہیں ان سب کے حصول کے لئے دعا کرو۔انسان یہ دعا کرے اپنے رب سے کہ اے خدا! جو تو نے مجھے قو تیں اور استعدادیں دی ہیں اپنے فضل سے مجھے یہ توفیق عطا کر کہ میں اپنی ہر قوت اور استعداد کی نشو نما کروں اور اسے کمال تک پہنچاؤں اور ان سے بہترین فائدہ تیری رضا کے حصول کے لئے میں حاصل کروں اور اپنے نفس کی اس کامل اور صحیح نشو و نما کے بعد جب خدا تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو جائے انسان کے تو جو دنیا کی نعمتیں ہیں ان کو حاصل بھی کروں اس رنگ میں جو تجھے پسند ہو اور استعمال بھی کروں اس طریق پر جو تیری رضا کے حصول میں محمد اور معاون ہو۔بہت سارے لوگ ہیں جو غلط طریق سے خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو حاصل کر کے گناہگار بن جاتے ہیں اور بہت سے لوگ ہیں جو صحیح طریق پر تو خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو حاصل کرتے ہیں لیکن غلط استعمال کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کو ناراض کر دیتے ہیں۔تو ایک نہ ختم ہونے والا سمندر ہے دعاؤں کا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً کے اس فقرے کے اندر جو خدا تعالیٰ نے یہاں بیان کر دیا۔وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً اور خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہیں جو میں نے نعماء عطا کیں جو رحمت اور فضل موسلا دھار بارش کی طرح تم پر نازل ہوئے وہ تمہاری دُنیوی اور ور لی زندگی کے ساتھ ہی تو تعلق نہیں رکھتے اُخروی زندگی کے ساتھ بھی ان کا تعلق ہے بلکہ اُخروی زندگی کے ساتھ ہی ان کا صحیح تعلق ہے اور یہ ساری چیزیں اسی لئے تمہیں دی گئی ہیں کہ تم اپنی آخرت کو سنوارو۔اس واسطے دعا کرو کہ اے خدا ! ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا اور یہ دنیا کی نعمتیں ہمیں اُخروی زندگی کی جنتوں کی راہوں پر چلا کر ان جنتوں تک پہنچانے والی ہوں تجھے ناراض کر کے ہمیں جہنم کی طرف لے جانے والی نہ ہوں۔میں نے بتایا کہ یہ دعا جو ہے اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ یہ ایک ایسی دعا ہے جس میں دعا کا ایک عالم کا عالم کھولا گیا اور ہمیں اس چھوٹی سی آیت میں