خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 16
خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۶ خطبہ جمعہ ۱۲ /جنوری ۱۹۷۹ء نے منتخب کیا مذہبی آزادی اور آزادی ضمیر کے مفہوم کی وضاحت کے لئے وہ ”البلاغ‘“ کا لفظ ہے۔اللہ تعالیٰ سورۃ آل عمران میں فرماتا ہے۔فَإِنْ حَاجُوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ وَمَن اتَّبَعَنِ وَقُلْ لِلَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ وَالْأَمِينَ وَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوا ۚ وَ إِنْ تَوَلَّوا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلغُ وَاللهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ (ال عمران :٢١) اگر یہ لوگ تجھ سے جھگڑیں تو تو ان سے کہہ دے کہ میں نے اور ان لوگوں نے جو میرے پیرو ہیں اپنے آپ کو اللہ کی فرمانبرداری میں لگا دیا ہے اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے ان کو اور نیز امیوں کو کہہ دے کہ کیا تم بھی فرمانبردار ہوتے ہو ، مسلمان ہوتے ہو۔پس اگر وہ فرمانبردار ہو جائیں اور وہ بھی کہیں اسلمت لرب العلمین تو سمجھو کہ وہ ہدایت پاگئے اور اگر وہ منہ پھیر لیں تو تیرے ذمہ صرف پہنچا دینا ہے۔اگر وہ منہ پھیر لیں تو تیرا کام ختم۔تیرے ذمہ صرف پہنچادینا ہے اور اللہ تعالیٰ بندوں کو دیکھ رہا ہے اور اس سے تو کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے۔وہ آپ ہی ان سے نٹے گا اور جب چاہے گا ان کو سزا دے گا۔یہاں جیسا کہ سیاق و سباق سے ظاہر ہے کہ مخاطب غیر مسلم ہے جس کے سامنے پہلی دفعہ اسلام رکھا جاتا ہے کیونکہ وہ جھگڑا کر رہے ہیں، ان کو کہا گیا ہے ہم ایمان لے آئے ہم مسلمان ہو گئے، تم بھی مسلمان ہو جاؤ، خدا تعالیٰ کے پیار کو، اس کی محبت کو ، اس کی برکات کو ، اس کی رحمتوں کو تم حاصل کرو گے۔سورہ مائدہ میں ہے اور یہاں مخاطب ہیں مومن۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ اطِیعُوا اللهَ وَاطِيعُوا الرَّسُولَ وَاحْذَرُوا فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا عَلَى رَسُولِنَا الْبَلغُ الْمُبِينُ (المائدة : ٩٣) اس سے پہلے جو مضمون بیان ہوا ہے چند آیات میں وہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! شراب، مجوا، بت، قرعہ اندازی کے تیر جو ہیں وہ ناپاک ہیں اور شیطانی کام ہیں۔ان سے بچنا چاہیے۔شیطان شراب اور جوئے کے ذریعے سے عداوت اور کینہ ڈالنا اور اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نماز سے روکنا چاہتا ہے۔کیا تم اللہ تعالیٰ) کے ذکر اور نماز سے رک سکتے ہو؟ ظاہر ہے مومن مخاطب ہیں۔تو پہلی آیت میں تھا فَاجتَنِبُوهُ - مفسرین کہتے ہیں وَ اَطِيعُوا اللہ میں واؤ جو ہے یہ عطف