خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 242
خطبات ناصر جلد هشتم ۲۴۲ خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۷۹ء جا کے ان کو بٹھا دیا۔وہی ان کا مقام تھا۔جب کھانا سامنے رکھا گیا تو انہوں نے آرام سے اپنا وہ قیمتی جبہ کا کنارہ لے کے شوربے کے پیالے میں ڈال دیا۔وہ حیران کہ یہ کیا ہو گیا۔میزبان کہنے لگا یہ کیا کیا آپ نے؟ اس نے کہا کہ تم نے میری دعوت تو نہیں کی جے کی ( کی ) ہے۔پہلے میں غریبانہ لباس میں آیا تھا تمہارے دربان نے مجھے واپس کر دیا۔پھر میں یہ جبہ پہن کے آگیا اس نے مجھے بڑی عزت و احترام کے ساتھ تمہارے پہلو میں لا بٹھایا تو جس کی دعوت کی تم نے اسے میں نے کھلانا شروع کر دیا ہے۔اصل چیز یہ کہ ہزار ہا اشرفی اس جیتے کی قیمت تھی ان کے دل میں کوئی قیمت نہیں تھی اس کی اور اس کو خراب کر دیا۔یہ ہمارے ہاں بھی بعض لوگ ہیں نو جوانوں میں میں نے بعض احمد یوں کو بھی دیکھا ہے۔مجھے بڑا دکھ ہوتا ہے۔ٹھیک ہے اگر خدا نے تمہیں پیسے دیئے ہیں اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے تم پہنو۔خدا نے منع نہیں کیا لیکن دوسروں کے حقوق کا خیال رکھو۔چار سو روپے کا سوٹ پہنا ہوا ہوگا اور ذرا لگ جائے مٹی تو یوں جھاڑ رہے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔یہ ہے تمہاری زندگی ، ایک مومن کی زندگی اس طرح نہیں گزرسکتی۔بڑی دیر کی بات ہے ایک جگہ لڑائی ہو گئی۔پارٹیشن سے پہلے کی بات ہے۔احمدی ، احمدی آپس میں لڑ پڑے۔لمبا قصہ نہیں میں آپ کو سناؤں گا۔بہر حال ان کے لئے فیصلہ کی کوئی صورت نظر نہیں آئی۔ہمارے چوہدری فتح محمد سیال مرحوم اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے بڑی خدمت کی انہوں نے اسلام کی تو وہ بھی ناکام ہو گئے۔تو ان دونوں لڑنے والی پارٹیوں کے لیڈروں کو میں نے کہا آؤ میرے ساتھ چلو ذرا۔اور اٹھنے لگے میں نے کہا نہیں تم بیٹھے رہو ان کے ساتھ بات کرنی ہے۔دونوں کو میں نے ایک فرلانگ گاؤں سے باہر لے جا کے تو ایک ہل چلا ہوا سو ہا گہ پھری ہوئی بڑی نرم سی کھیتی تھی وہاں میں چوکڑی مار کے بیٹھ گیا اپنی اچکن اور کپڑوں سمیت اور میں نے کہا میرے سامنے بیٹھو۔ان سے گلے شکوے سنے اور کوئی آدھے گھنٹے پونے گھنٹے میں وہ سارا فیصلہ کر دیا ان کا۔تو یہ کپڑے جن کو میسر آئیں ، پہنیں الحمد للہ پڑھ کے۔کوئی نہیں روکتا کسی کو کیونکہ رہبانیت اسلام میں نہیں ہے۔یہ بھی اُسوہ رسول ہے۔کئی لوگ اپنے اوپر راکھ مل لیتے ہیں فقیر۔اس قسم کی