خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 238
خطبات ناصر جلد هشتم ۲۳۸ خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۷۹ء کرتے ، گالی کے مقابلہ میں گالی نہیں دیتے، ظلم کے مقابلہ میں ظلم کی راہوں کو اختیار نہیں کرتے اور اس طرح ظلم کے تسلسل کو بڑھانے میں حصہ دار نہیں بنتے بلکہ بدی کو نیکی کے ذریعہ سے دور کرتے رہتے ہیں۔یہ ایک ایسا بنیادی اصول ہے یا ایک ایسا بنیادی حکم ہے یا انسانوں میں ایک ایسی بنیادی صفت پیدا کرنے کا طریق بتایا گیا ہے کہ جس کے ذریعہ سے ظلم اور بدی کا جو چکر ہے اسے کاٹ دیا جاتا ہے اور بند کر دیا جاتا ہے اور ظلم کا دروازہ جو ہے وہ کھلا نہیں رہتا بلکہ اس کو ہمیشہ کے لئے بند کر کے اور ظلم کے چکر کو ختم کر دیا جاتا ہے۔تو وہ لوگ جو بدی کو نیکی کے ذریعہ سے دور کرتے رہتے ہیں انہی کے لئے اس گھر کا اور گھر کا ذکر اگلی آیت میں ہے جنتوں کا ذکر جس میں ابدی نعمتیں ہیں ، بہترین مقام ان کو ملے گا ، بہترین مقام کیونکہ جیسا کہ میں نے پہلے اشارہ ابھی بتایا وَ الَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ یہ بنیادی چیز ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں بہترین مقام کا حق دار بناتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو رب سمجھتے ہوئے ، اس کی ربوبیت کو علی وجہ البصیرت جانتے ہوئے ، اس اللہ، رب کی رضا کی طلب میں ہمیشہ رہتے ہوئے ثابت قدمی سے کام لینے والے، ہمیشہ اس کوشش میں رہنے والے ہیں کہ کسی طرح ہمارا رب ہم سے راضی ہو جائے۔یہ بنیادی چیز ہے باقی تمام احکام اسلام کے اسی بنیادی مقصود کے حصول کے لئے دیئے گئے ہیں۔نمازیں پڑھنا، ذکر کرنا اللہ تعالیٰ کا، اس کے بندوں کی خیر خواہی چاہنا، ظلم کے مقابلہ میں ظلم نہ کرنا ، گالی کے مقابلہ میں گالی نہ دینا ظلم کے مقابلہ میں نیکی کرنا اور گالی کے مقابلہ میں دعائیں دینا تا کہ خدا تعالیٰ راضی ہو جائے ، یہ تمام تفاصیل ہیں احکام کی جو ایک مقصود کے حصول کی طرف نشاندہی کرنے والی ہیں اور وہ مقصود یہ ہے کہ کسی طرح ہمارے رب کی رضا ہمیں حاصل ہو جائے۔اس طلب میں وہ ثابت قدم رہتے ہوئے خدا تعالیٰ کے ہر حکم پر چلتے ہیں اور اس طرح پر وہ جنت کے اعلیٰ مقام پر اپنی اپنی استعداد کے مطابق پہنچا دیئے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے ، کیونکہ وہ انعامات جو ہیں وہ نہ ختم ہونے والی اُخروی زندگی سے تعلق رکھنے والے، نہ ختم ہونے والے انعامات ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو تو اس چھوٹی سی زندگی کی محدود کوششیں ان