خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 217
خطبات ناصر جلد هشتم ۲۱۷ خطبہ جمعہ ۲۲ جون ۱۹۷۹ء اعلان کرتا ہے کہ میں آپ پر ایمان لایا اور آپ کے رب پر ایمان لایا۔آپ بشیر بھی ہیں اس کے لئے اور نذیر بھی ہیں اس کے لئے یعنی جس طرح کافر کے لئے نذیر اور بشیر ہیں اسی طرح مومن کے لئے بھی نذیر اور بشیر ہیں۔قرآن کریم بھرا پڑا ہے اس مضمون کے ساتھ اور ایک آیت میں نے اٹھائی ہے جس میں صاف ، بالکل وضاحت کے ساتھ یہ ہے کہ مومنوں کے لئے آپ نذیر بھی ہیں اور بشیر بھی ہیں۔قرآن کریم میں ہے۔إن أنا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (الاعراف: ۱۸۹) کہ میں صرف نذیر اور بشیر ہوں مومن قوم کے لئے۔تو یہ خیال کہ مومنوں کے لئے محض بشیر اور نذیر نہیں اور کافروں کے لئے محض نذیر اور بشیر نہیں یہ غلط ہے۔اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ ایک دفعہ ایمان کا دعویٰ کر دیا پھر بشارتیں ہی بشارتیں ہیں ، پھر خیر ہی خیر ہے، پھر خوشحالی ہی خوشحالی ہے، پھر اللہ تعالیٰ کی رضا ہی رضا ہے اور ہماری کوئی ذمہ داری نہیں ، ہمارے اوپر کوئی پابندیاں نہیں، گناہوں سے بچنے کے لئے ہم نے کوئی کوشش نہیں کرنی۔نیکیاں کرنے کے لئے ہم نے ہر قسم کی جد و جہد اور سعی نہیں کرنی۔یہ خیال غلط ہے۔اصولی طور پر خدا تعالیٰ نے جو لِقَومٍ يُؤْمِنُونَ مومن قوم کو جو بشارت دی وہ بڑی زبر دست ہے وَ انْتُمُ الْأَعْلُونَ (آل عمران : ۱۴۰ ) ہر شعبہ زندگی میں فوقیت تمہیں حاصل ہوگی۔اعلیٰ کا لفظ بولا ہے نا۔ہر شعبہ زندگی میں فوقیت تمہیں حاصل ہوگی یہ بشارت ہے مگر اس کے ساتھ میں نے قرآن کریم پر بڑا غور کیا ہر بشارت کے ساتھ انذاری پہلو ساتھ لگا ہوا ہے۔اس کے ساتھ ایک انذار ہے۔اِن كُنتُم مُؤْمِنین اگر تم ایمان کے عملی تقاضوں کو پورا نہیں کرو گے تو یہ بشارت تمہارے حق میں پوری نہیں ہوگی۔الا غلون والی اور تیرہ چودہ سوسالہ اسلامی زندگی میں جو مسلمان ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ان کی آپ تاریخ دیکھیں اس کے دونوں پہلوانذار کے بھی اور تبشیر کے بھی بڑے زبر دست طریقے پر پورے ہوئے۔ایمان کے تقاضے جہاں بھی پورے کئے گئے ، فوقیت بشارت کے مطابق لِقَومٍ يُؤْمِنُونَ انہی کو حاصل ہوئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی