خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 215 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 215

خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۱۵ خطبہ جمعہ ۲۲ جون ۱۹۷۹ء نوع انسان کے دل خدائے واحد و یگانہ کے جھنڈے تلے جمع کر دیں خطبه جمعه فرموده ۲۲ / جون ۱۹۷۹ء بمقام مسجد احمدیہ۔اسلام آباد تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔بعض اذہان میں یہ غلط خیال پیدا ہو گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کافروں کے لئے نذیر اور مومنوں کے لئے بشیر ہیں۔قرآن کریم نے ہمیں جو تعلیم دی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام پر جو روشنی ڈالی ہے اس سے ہمیں پتا لگتا ہے جو وہ اس سے کچھ مختلف ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِينَ ہیں۔آپ کا تعلق آپ کی رحمت کا تعلق صرف انسان سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی ہر مخلوق سے ہے۔اس سے پہلے ایک خطبہ میں میں مختصراً اس مضمون پر بھی روشنی ڈال چکا ہوں۔اس وقت میرا یہ موضوع نہیں۔اس عالمگیر رحمت کا جلوہ جو انسان پر ظاہر ہوا ، وہ وَ ما أَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا ونَذِيرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ (سبا: ٢٩) کی شکل میں کہ تمام بنی نوع انسان کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشیر بھی ہیں اور نذیر بھی ہیں۔اس آیت کے ٹکڑے سے ہمیں بہت سی باتیں پتا لگتی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو وہ تمام قوتیں اور طاقتیں عطا کر دی ہیں جن کے استعمال سے وہ بدی سے بچ سکتا