خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 202 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 202

خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۰۲ خطبہ جمعہ یکم جون ۱۹۷۹ء جمعرات کا دن تھا جب مدینے میں یہ بات عام ہو گئی کہ دشمن مدینے سے تین میل کے فاصلے پر خیمہ زن ہے اور جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات بڑے چوکس رہے اہلِ مدینہ اور جمعہ والے دن حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ کیا اپنے صحابہ کو بلا کے جن میں بڑے بھی تھے ، تجربہ کار بھی تھے، مخلص متقی بھی تھے اور دوسرے بھی تھے، بچے بھی تھے ، نوجوان بھی تھے بڑے جو شیلے نو جوان۔آپ نے ان سے مشورہ کیا کہ اب دور ستے ہیں ہمارے سامنے یا ہم باہر نکلیں اور جہاں وہ خیمہ زن ہیں وہاں جا کے کھلے میدان میں جنگ ہو ان کے ساتھ یا ہم مدینہ میں رہیں اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے رویا میں ایسے اشارے بھی کئے تھے کہ مدینے میں رہنا چاہیے لیکن بہر حال مشورہ کیا آپ نے۔بڑی بھاری اکثریت نے اصرار کیا کہ باہر نکل کے جنگ کریں گے۔آپ نے بات مان لی۔جمعہ کی شام کو ایک ہزار صحابہ کا یہ شکر باہر نکلا اور قریبا ڈیڑھ میل پر شیخین ایک مقام ہے وہاں آپ خیمہ زن ہو گئے ، وہاں جائزہ آپ کے حکم سے لیا گیا سارے لشکر کا اور اگلے دن صبح وہاں سے کوچ کر کے جانا تھا۔اس عرصے میں عبد اللہ بن ابی بن سلول جو رئیس المنافقین مدینے کا تھا وہ اپنے تین سو ساتھی لے کر واپس چلا گیا۔باقی رہ گئے سات سو مسلمان تین ہزار کے مقابلے میں، جن کے پاس سامان بھی کوئی زیادہ نہیں تھا دو گھوڑے تھے دوسو کے مقابلے میں یعنی ایک فی صد گھوڑوں کے لحاظ سے اور زرہ پوش بھی بہت تھوڑے گنتی میں۔بہر حال عددی لحاظ سے اور ساز وسامان کے لحاظ سے ان دولشکروں کا کوئی مقابلہ نہیں تھا لیکن اس لحاظ سے بھی آپس میں کوئی نسبت نہیں تھی کہ ایک خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کرنے والے اور دوسرے بتوں کی پرستش کرنے والے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ہفتہ کی صبح کوچ کیا اور خدا تعالیٰ کے حکم یا انتہائی خداداد فراست سے آپ نے چکر کاٹ کے ان کے خیموں سے بھی آگے نکل کے اُحد کے دامن میں اس کی طرف پیٹھ کر کے اپنی صفیں بنالیں۔جس کا مطلب یہ تھا کہ دشمن کی فوج اور مدینے کے درمیان کوئی مسلمان لشکر نہیں تھا۔اگر وہ دشمن پلٹتے اور گھوڑوں کو ایڑی لگا کے بھاگتے مدینے کی طرف تو وہ قبضہ کر لیتے شہر پر۔مگر ایسا نہیں ہوا۔میں نے سوچا اور کئی دفعہ سوچا، بڑا تو گل تھا خدا پر اور بڑی فراست تھی اور ایک نشان محمد صلی اللہ علیہ وسلم