خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 175 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 175

خطبات ناصر جلد هشتم ۱۷۵ خطبہ جمعہ ۷ ۱۷۲ پریل ۱۹۷۹ء بغیر حامل کر سکتا ہوں اور وہ شخص جو یہ نہ کہے اور یہ اقرار نہ کرے کہ مجھے فیض باری کے حصول کے لئے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کی ضرورت ہے یا وہ شخص جو یہ کہے کہ میں نے جو فیض اور فضیلت حاصل کی ہے وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر حاصل کی ہے وہ ذریت شیطان ہے۔نمبر 4: ہر ایک فضیلت کی کنجی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی ہے جب تک آپ تالہ نہ کھولیں کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوسکتی۔ہر ایک معرفت کا خزانہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کواللہ تعالی کی طرف سے عطا ہو چکا ہے۔جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اور آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی معرفت میں آگے بڑھنے کی سعی نہیں کرتا وہ محرومِ ازلی ہے۔نمبر ے : ہم ہیں کیا۔ہم لاشے محض ہیں۔ہم کا فرنعمت ہوں گے اور ناشکرے ہوں گے اگر یہ نہ کہیں کہ زندہ خدا کی شناخت اس کامل نبی کے ذریعے ہم نے پائی اور یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی فیضان ہے کہ آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ اپنے عاجز بندوں سے ہمکلام ہوتا ہے اور اس سے بڑی نعمت اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک مثال دی ہے اور اس میں ساری باتوں کا خلاصہ بیان کر دیا ہے۔وہ مثال یہ ہے کہ آپ آفتاب ہدایت ہیں۔یعنی ہدایت کا ایک سورج ہے اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔جو شخص سورج کے سامنے کھڑا ہوگا اس پر اس کی شعاعیں پڑیں گی لیکن جو شخص کمرے میں داخل ہو کر دروازے بند کر دے تو وہ روشنی سے محروم ہو جائے گا۔جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ادب سے کھڑا نہیں ہوگا تو وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی شعاع سے محروم ہو جائے گا۔آپ کی شعاع دھوپ کی طرح ہے۔ہم اُس وقت تک ہی منور رہ سکتے ہیں جب تک ہم آپ کے سامنے کھڑے رہیں اور ہم پر آپ کی شعاع پڑتی رہے۔آپ سے دوری کی راہوں کو اختیار کرنے والے خدا کے غضب کو بلانے والے ہیں اور جس مقصد کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے یعنی عبد بننے کے لئے اس مقصد میں ناکام ہونے والے ہیں۔