خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 97
خطبات ناصر جلد ہشتم ۹۷ خطبہ جمعہ ۹ / مارچ ۱۹۷۹ء دروازوں کی طرف قدم آگے بڑھائیں۔ان کی طرف منہ کر کے نہ چلیں اور ان کے اندر داخل نہ ہوں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فضل ابدی جنتوں کا ہمیں وارث بناوے کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ نفاق کا دروازہ اور ارتداد کا بند نہیں۔کوئی جبر نہیں ہے۔اگر کوئی منافق بننا چاہتا ہے تو جبراًا اسے روکا نہیں جاسکتا لیکن سزا اس کی بڑی سخت ہے۔اِنَّ الْمُنفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ - اگر کوئی ارتداد اختیار کرتا ہے تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ خدایا میں نے بیس سال تو تیری پاک جماعت میں شامل رہ کر تیری راہ میں قربانیاں دی تھیں ان کا بدلہ تو مجھے دے۔حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الله نیا ان کے ایسے اعمال ضائع ہو جائیں گے ان کا بھی کوئی بدلہ نہیں ملے گا مرتد کو یہ یاد رکھنا چاہیے اور مرتد بنانے کی کوششیں بھی ہوتی ہیں شیطان کا یہ بھی کام ہے۔اَصْحَبُ الْجَحِيمِ کے جو تین معنے ہیں ان کی رو سے شیطان کے بھی تین کام ہیں۔ایک اس کا کام ہے کہ انسان سے کفر کروائے یعنی قبول ہی نہ کرے صداقت کو جو اِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَ كَذَّبُوا بِأَيْتِنَا میں بیان ہوا ہے۔دوسرے شیطان کا یہ کام ہے جس وقت کوئی ایمان لے آتا ہے تو بڑا تلملاتا ہے شیطان۔یہ کیا ہو گیا۔میرے ہاتھ سے نکل گیا۔پھر وہ وسوسے پیدا کر کے انسان کو نفاق کی طرف لانے کی کوشش کرتا ہے اور یا وسو سے پیدا کر کے اسے ارتداد کی طرف لانے کی کوشش کرتا ہے۔کسی شخص کا یہ کہنا کہ چونکہ میں ایک دفعہ ایمان لے آیا علی وجہ البصیرت اس واسطے شیطان کی طاقتیں جو ہیں وہ اس سے جہاں تک میرے نفس کا تعلق تھا چھین لی گئیں، یہ غلط ہے۔صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا شیطان اسلام لے آیا۔لیکن دوسروں کے متعلق تو یہ نہیں کہا تھا کہ ان کا شیطان بھی ایمان لے آیا۔پاک و مطہر بھی بہت گزرے لیکن ہر ایک کو لرزاں ترساں اپنی زندگی کے دن گزارنے چاہئیں۔شیطان کے حملہ سے بچنے کے لئے خدا نے سکھایا لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِیمِ۔اس سے شیطان دور بھاگتا ہے۔لوگ جانتے تو ہیں مگر سمجھتے کم ہیں اس لئے ہمیں یہ بتایا گیا کہ اگر شیطان کے حملہ سے بچنا چاہتے ہو تو یا درکھو کہ اپنی طاقت سے تم بچ نہیں سکتے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ جب تک خدا سے طاقت حاصل کر کے شیطان کا مقابلہ نہیں