خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 839
خطبات ناصر جلد ہشتم ۸۳۹ خطبه جمعه ۲۶ دسمبر ۱۹۸۰ء نسلوں کی تربیت کے لئے دعا کے ساتھ مادی تدابیر کو بھی اختیار کریں خطبه جمعه فرموده ۲۶ دسمبر ۱۹۸۰ء بمقام جلسہ گاہ مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اور اس فرمان میں ہمیں دعا سکھلائی ہے۔رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بعد إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ۔(ال عمران : ۹) اور رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا - (الفرقان: ۷۵) اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس لئے پیدا کیا کہ وہ اس کا بندہ بنے ، اس کی عبادت کرے۔اس کی صفات کا رنگ اپنے اخلاق پر چڑھائے۔ان ہدایات کی راہوں پر چلے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے زمانہ میں (جو زمانہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ہے آپ کی امت کا زمانہ ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت کی راہیں بتائی ہیں۔قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ ہدایت انسان اپنے زور سے نہیں پاسکتا۔اسی لئے سورۃ فاتحہ میں یہ دعا سکھائی۔اھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة : ١) کم صراط مستقیم کا جہاں تک تعلق ہے وہ سیدھی راہ جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی جنتوں کی طرف لے جانے والی ہے اس راہ کی طرف ہمیں ہدایت دے۔قرآن کریم سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ جس طرح ہدایت کا پا نا اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے اسی طرح ہدایت پر قائم رہنے کے لئے بھی اللہ تعالیٰ