خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 819
خطبات ناصر جلد ہشتم ۸۱۹ خطبه جمعه ۵ /دسمبر ۱۹۸۰ء قرآن کریم میں تمام شرائع کی ابدی صداقتیں پائی جاتی ہیں خطبه جمعه فرموده ۵/ دسمبر ۱۹۸۰ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔سورۃ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔ان هذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصلحتِ اَن لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًا وَ اَنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا الِيمًا۔(بنی اسراءیل : ۱۱،۱۰) ترجمه ان دو آیات کا یہ ہے کہ یہ قرآن کریم یقیناً اس راہ کی طرف راہ نمائی کرتا ہے جوا قوم ہے اور مومنوں کو جو مناسب حال کام کرتے ہیں بشارت دیتا ہے کہ ان کے لئے بہت بڑا اجر مقدر ہے اور ( قرآن کریم یہ بھی کہتا ہے کہ ) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے لئے ہم نے درد ناک عذاب تیار کیا ہے۔سیدھی راہ کو اختیار کرنا انسانی فطرت میں ہے۔سیدھا راستہ وہ ہے جو منزل مقصود تک سب سے کم فاصلہ طے کرنے کے بعد پہنچا دیتا ہے۔جو دوست زمیندار ہیں یا جن کو لوگوں کی زمینوں کے کناروں پر یا پگڈنڈیوں پر پھرنے کا اتفاق ہوا ہے وہ جانتے ہیں کہ فطرت کا تقاضا پورا کرتے ہوئے