خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 811 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 811

خطبات ناصر جلد هشتم All خطبه جمعه ۲۸ /نومبر ۱۹۸۰ء ہر دو کائنات کی ہر شے میں یہ خاصیت رکھی کہ انسان اس سے خدمت لے سکے۔تو ہر چیز پیدا کرتے وقت انسان کو یا درکھانا۔انسان تو اتنا ذکر و یسے کر بھی نہیں سکتا، ناممکنات میں سے ہے۔اس لئے کہ جو اللہ تعالیٰ نے اتنے خادم پیدا کئے ہمارے ان میں سے اکثریت ایسے خادموں کی ہے جن کا علم بھی ابھی تک ہمیں نہیں ہوا۔ہوتا رہتا ہے۔ہرنسل نئے خادموں کا وجود ڈسکور (Discover) کرتی ہے، معلوم کرتی ہے اور ہمارے سامنے رکھتی ہے۔ایک وقت میں مثلاً سواری ہے گھوڑے کی سواری ، سواری گاڑی ، گھوڑوں کی اور اس قسم کے دوسرے جانور مثلاً بیل سے بھی انسان نے سواری کا کام لیا، گدھوں سے بھی لیا، سمندر میں چپو سے کشتی بھی چلائی، بادبانوں سے بھی چلائی پھر ایک وقت آیا کہ سٹیم انجن بن گئے اور ریل بن گئی اور جہاز بن گئے جن میں شاید کوئلہ جلتا تھا۔انجنز میں بھی ، پتا نہیں شاید اس وقت جو چھوٹے بچے دس پندرہ سال کے ہیں ان کو ان میں سے بہت سارے ایسے بھی ہوں گے جنہوں نے کبھی سٹیم انجن نہیں دیکھا ہو گا کیونکہ آج کل دوسرے انجن آگئے ہیں بہت۔لیکن پھر ایک وقت میں انسان نے ایک اور خادم معلوم کر لیا سٹیم انجن کا ، پھر ڈیزل انجن آگئے ، پھر بجلی سے چلنے لگ گئیں۔پہلے بجلی کو کوئی جانتا ہی نہیں تھا سوائے اس بجلی کو جو آسمانوں سے گرتی تھی اور خدا تعالیٰ کے غضب کو کسی کے اوپر ظاہر کر دیتی تھی۔عمارتیں گرا دیتی تھیں جانیں لے لیتی تھیں وہ بجلیاں لیکن ان سے خدا تعالیٰ انسان کی خدمت ہی کر رہا تھا نا، خدا اس کو جھنجوڑ رہا تھا کہ میری طرف کیوں توجہ نہیں کرتا تو ، پھر انسان نے معلوم کر لیا۔پتا نہیں بے شمار اور چیزیں انسان ایجاد کرتا چلا جائے گا۔اس حد تک تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اے خدا ہم مجبور ہیں کہ تیری ان عظمتوں کو بھی اپنے ذہن میں حاضر کریں اور رکھیں کہ جو تیری عظمتیں ہمارے سامنے ہی نہیں آئیں لیکن ہمارا یہ عذر تو نہیں ہوسکتا کہ جو عظمتیں ہمارے سامنے آگئیں ان کو ہم بھول جائیں اور کہیں کہ غلطی ہوگئی۔اس واسطے میں نے کہا کہ ساری عبادات کی بنیاد ذکر الہی ہے۔اس کی ذات کو پہچاننا ، ذکر کے معنی یہ ہیں کہ معرفت ذات باری اور صفات باری۔اللہ تعالیٰ کی ذات بڑی عظمتوں والی۔بڑا جلال ہے بڑا حسن ہے اس میں اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ (النور :۳۶) ہر کائنات میں، کائنات میں ہر شے میں اگر کہیں انسانی آنکھ یا کوئی