خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 797
خطبات ناصر جلد ہشتم ۷۹۷ خطبه جمعه ۲۱ /نومبر ۱۰ ١٩٨٠ء جلسہ سالانہ کے مہمانوں کی خلوص نیت سے خدمت کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں خطبه جمعه فرموده ۲۱ رنومبر ۱۹۸۰ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔سورۃ الحجرات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے قَالَتِ الأَعْرَابُ أَمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا اسْلَمْنَا (الحجرات : ۱۵) کہ بعض ایسے مسلمان ہیں جو ایمان کا دعوی کرتے ہیں لیکن ان کے دل ایمان سے خالی ہیں، اس لئے انہیں ایمان کا دعوی نہیں کرنا چاہیے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں یہ اجازت ہے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہہ لیا کریں اگر چاہیں۔سوال پیدا ہوتا تھا کہ وہ مومن کون سے ہیں اور ان کی بنیادی علامات کیا ہیں کہ جن کے دل اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایمان سے خالی نہیں بلکہ ایمان سے بھرے ہوئے ہیں۔چنانچہ اسی سورۃ کی اگلی آیت ( سولہویں ) جو ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ وہ کون سے مومن ہیں جن کے دل اس کے نزدیک ایمان سے پر ہوتے ہیں۔فرما یا اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَ جَهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللهِ أُولَبِكَ هُمُ الصُّدِقُونَ (الحجرات : ١٢) مومن وہ ہوتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں یعنی وہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان لائے اور پھر اس کے بعد کسی قسم کے شک اور شبہ میں مبتلا نہیں ہوتے اور