خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 762
خطبات ناصر جلد هشتم ۷۶۲ خطبه جمعه ۲۴/اکتوبر ۱۹۸۰ء آیا کہ وہ بھی جھک جائے اور میں بھی جھک جاؤں تو ہم سلام ، کر سکتے ہیں مصافحہ ایک دوسرے سے۔تو جب میں نے ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیا تو آگے بڑھ کر بڑی مشکل سے پہنچتا تھا وہ اس نے مجھے پیار کیا۔پھر مجھے یقین ہو گیا کہ یہ احمدی ہے لیکن اس کے بعد جو اُس نے بات کی وہ یہ تھی کہ میں بارہ میل پر ایک اور گاؤں ہے دس بارہ ہزار کی آبادی کا وہاں کا میئر ہوں اور یہ درخواست کرنے آیا ہوں کہ وہاں بھی مسجد بنائیں لیکن خوشیوں کے سامان خدا تعالیٰ نے وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ کے ایک علامت کے طور پر ہمیں بتا دیا ہے کہ خدا تعالیٰ پر توکل رکھو سارے کام ہوں گے۔لیکن اب مجھے یقین ہے کہ پادری کی طرف سے ، چرچ کی طرف سے بڑی سخت مخالفت ہوگی۔اب میں آتا ہوں اس مختصر سے بالکل مختصر میں نے آؤٹ لائن (Out line) آپ کو بتائی کہ دوز تے داریاں آپ پر آتی ہیں۔ایک یہ کہ ساری صدی جو یہ گزری یہ ہجری، ہجری صدی کا اختتام آ رہا ہے نا چند دنوں تک اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوی سے لے کے آج تک اللہ تعالیٰ کے اس قدر فضل ہم پر نازل ہوئے ہیں کہ ان کا شمار نہیں اور یہ دھارا فضلوں کا شدت اختیار کرتا چلا جارہا ہے یعنی ہر سال آنے والے سال میں جو فضلوں اور رحمتوں کی تعداد ہے وہ پہلے سال سے کہیں بڑھ کر ہے اور وہ جوا کیلا تھا اسے خدا تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے مطابق ایک کروڑ بنادیا۔وہ جس کو اس کے گھر والے بھی پہچانتے نہیں تھے اور پوچھتے نہیں تھے، ایسے علاقے پیدا ہو گئے کہ جیسے غانا میں میں نے کہا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ اتنے مضبوط ہو گئے ہیں کہ ہم کواب اگنور (Ignore) نہیں کر سکتے اور یہ جو آخری سال تھا اس ہجری صدی کا آخری سال ، چند دنوں میں ختم ہورہا ہے، اتنا عظیم احسان ہم پر کہ وہ جو۔جب بارہ ہزار تھے تو لاکھوں کی عیسائی فوج پہ بھاری تھے اور جب لاکھوں بن گئے تو شاید اپنے سے کم تعداد پہ بھی بھاری نہ رہے اور چابی پکڑا دی انہیں۔اس واسطے خدا تعالیٰ سے یہ دعائیں کرتے رہنا چاہیے اس کی حمد کے ساتھ کہ جو اس نے ہدایت کا راستہ ہمیں دکھایا اور جس وجہ سے وہ ہم پر فضل اور رحمت کر رہا ہے وہ وجہ ہمیشہ ہماری ، ہماری نسلوں کی زندگی میں قائم رکھے اور چند دن رہتے تھے یعنی نو تاریخ ایک مہینے سے کم ایک دو دن ، اغلبا ۸ /نومبر کو پندرھویں صدی ہجری شروع ہو رہی ہے۔