خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 753
۷۵۳ خطبه جمعه ۲۴/اکتوبر ۱۹۸۰ء خطبات ناصر جلد ہشتم سے آج میں نے سنی ہیں تو دنیا سے فساد دور ہو جائے۔اسلام فساد کی جڑیں کاٹنے کے لئے آیا ہے فساد کو ہوا دینے کے لئے نہیں بھیجا گیا۔یہ تفصیل میں نے اس لئے بتادی کہ ہر جگہ یہی سامنے ان کے رکھنا پڑتا تھا۔بہت ساری غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں ان میں پیدا ہم ہی کر دیتے ہیں بعض دفعہ۔بہر حال یہ پیغام ان تک سوئزرلینڈ میں۔۲۱ + ۲ اور ان کا خیال ہے اور بھی کچھ اخبار آرہے ہیں پیچھے ، یہ خبر چھپ گئی اور قریباً سب کو اطلاع ہو گئی کہ کیا ہے اسلام کا مشن اور کیا ہے اسلام کی تعلیم ؟ جرمنی میں دو جگہ پریس کانفرنس ہوئی۔فرینکفرٹ اور ہیمبرگ دونوں جگہ مسجد ہے اور مبلغ ہے۔وہاں کے بھی اخباروں نے دیا۔پھر تیسرا ملک ڈنمارک وہاں بھی غیروں کے سامنے باتیں ہوئیں۔پھر چوتھا ملک سویڈن، گوٹن برگ وہاں بھی غیر ملے، پریس کانفرنس ہوئی، چھپا بھی۔پھر اس کے بعد ناروے میں ایک نئی عمارت اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی اچھی جگہ۔ایک ایسی لوکیلٹی (locality) میں ایسے علاقہ میں جہاں شرفا بستے ہیں اور بڑے امیر لوگ بستے ہیں ان میں ایک غریب چراغ بھی ٹمٹمانے لگا اب۔ہماری جو جماعت تو غریب ہے لیکن ضرورت کے مطابق ، ضرورت وہاں بڑی تھی کیونکہ ان تین ملکوں میں سب سے زیادہ جماعت ناروے کا دارلخلافہ اوسلو ہے وہاں اکٹھے ہونے کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی۔اس کے نتیجہ میں جب کسی گھر میں نماز ہو رہی ہو تو انسان، انسان میں کچھ بدمزگی پیدا ہو جاتی ہے تو پھر وہ اگر وہ گھر والے سے بدمزگی پیدا ہوئی ہے تو وہاں ہچکچاتے ہیں ایسے لوگ۔پھر نماز ادا کرنے کے لئے بھی جانے سے پر ہیز کرنے لگ جاتے ہیں۔بچے اکٹھے ہوں، شور مچائیں، وہ اسلام کے سبق سیکھیں اس میں دقت پیدا ہو جاتی ہے۔بہر حال وہ جگہ مل گئی بڑی اچھی وہاں بھی پریس کانفرنس ہوئی۔وہاں سے بھی اکیس اخباروں کے تراشے ہمیں مل چکے ہیں۔وہاں ایک صحافی کہنے لگے نارویجین کہ یہ جو دوسرے فرقوں کے مسلمان ہیں وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے آپ کو ناٹ مسلم ( Not Muslim) قرار دے دیا ہے۔میں نے کہا کہ ہاں ،ٹھیک ہے انہوں نے ناٹ مسلم، ہمیں قرار دے دیا ہے۔پر سوال یہ ہے کہ اللہ نے ہمیں ناٹ مسلم قرار دیا ہے یا نہیں؟ قرآن کریم میں یہ آیت ہے قَالَتِ الْأَعْرَابُ أَمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا (الحجرات: ۱۵) ان کے لئے تو اعراب کا ترجمہ میں نے کیا تھا A section of Muslim‘ کیونکہ اعراب ۱