خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 738 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 738

خطبات ناصر جلد ہشتم ۷۳۸ خطبه جمعه ۱۲ ستمبر۔١٩٨٠ء کریں گے اس وقت تک ہم انہیں اسلام کی طرف مائل نہیں کر سکیں گے۔یہاں کے لوگ اگر متاثر ہوں گے تو عملی نمونہ سے ہوں گے نہ کہ محض زبانی پیش کئے جانے والے دلائل سے۔جب میں یہاں کی قوموں کے سامنے اسلام کی حسین اور دل موہ لینے والی تعلیم پیش کرتا ہوں تو لوگ اسلام کے حُسن کا اقرار کرنے کے بعد ساتھ ہی مجھ سے پوچھتے ہیں کہ یہ بتائیے کہ کون سا ملک یا مسلمانوں کا کون سا طبقہ ایسا ہے جو ایسی حسین اور بے مثال تعلیم پر عمل کر رہا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ جس کا جواب دینا میرے لئے مشکل ہوتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے سوا کوئی بھی حقیقی معنوں میں اسلام کا عملی نمونہ پیش نہیں کر رہا۔اس زمانہ میں یہ ذمہ داری احمدیوں کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے کہ وہ ساری دنیا میں اسلام کو پھیلا ئیں۔ہم اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے قابل نہیں ہو سکتے جب تک کہ ہم میں سے ہر احمدی اپنی زندگی میں اسلام کا عملی نمونہ پیش نہ کرے۔ہمیں وعدہ دیا گیا ہے کہ اگر ہم اپنے قول اور فعل سے اسلام کو ساری دنیا میں پھیلانے کی کوشش کریں گے اور اپنی اس کوشش کو کمال تک پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے تو ہم ساری دنیا کو اسلام کا حلقہ بگوش بنانے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔اس کے ساتھ ہی ہمیں خبر دار کیا گیا ہے کہ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو پھر اس کی سزا بھی بہت سخت ہے۔اس ذمہ داری سے کما حقہ عہدہ برآ ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ہم مغربی تہذیب سے بکلی کنارہ کش رہتے ہوئے اسلام پر عمل پیرا ہوں اور اسلام کو ساری دنیا میں پھیلانے میں کوشاں رہیں۔آج تہذیب کے معنی اباحتی زندگی گزارنا ہیں۔حالانکہ بے قید زندگی گزار کے حرام کے بچے جننا تو تہذیب نہیں ہے۔حیوانوں کی سی زندگی گزارنے کو کیسے تہذیب قرار دیا جا سکتا ہے۔حیوان اور انسان میں بہر حال فرق ہونا چاہیے۔ہمارا کام ان لوگوں کو جو حیوان کی سی زندگی گزار رہے ہیں دوبارہ انسانی زندگی کے قابل بنانا ہے۔آج خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہر شخص مغربی تہذیب سے بکلی مجتنب رہتے ہوئے اسلام پر کماحقہ عمل پیرا ہو اور اپنی زندگی میں اسلام کا عملی نمونہ پیش کرے تا کہ دوسروں کو اسلام کی طرف مائل کر