خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 718 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 718

خطبات ناصر جلد هشتم ZIA خطبه جمعه ۸ راگست ۱۹۸۰ء Barrier کو توڑنے کا منصوبہ القا کیا ہے۔اس منصو بہ کا تعلق اس اسلامی ادارہ سے ہے جسے عید گاہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔فرمایا:۔اسلام میں عید گاہ جو شہر سے باہر کھلی جگہ بنائی جاتی ہے اپنی ذات میں ایک بہت بڑا انسٹی ٹیوشن یا ادارہ ہے جس سے تبلیغی اور تربیتی رنگ میں جماعتی طور پر فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔دراصل مساجد کے مختلف دائرے ہیں۔ایک محلہ کی مسجد ہوتی ہے اس کا دائرہ محلہ تک محدود ہوتا ہے ایک جامع مسجد ہوتی ہے جس میں جمعہ کی نماز بھی ادا کی جاتی ہے اس کا دائرہ شہر ہوتا ہے۔اسی طرح ایک عید گاہ ہوتی ہے اس کا دائرہ جمعہ کے دائرہ سے بھی بڑا ہوتا ہے اور اس میں شہر کے علاوہ اردگرد کے علاقہ کے لوگ بھی جمع ہوتے اور نماز عید ادا کرتے ہیں۔میں نے سوچاہر ملک میں شہر سے باہر فاصلہ پر جہاں زمین کی قیمت زیادہ نہ ہو۔ہیکٹر ڈیڑھ ہیکٹر زمین خرید لی جائے۔مثال کے طور پر لندن سے تیس میل باہر اتنی زمین خرید کر وہاں عید گاہ کی طرز پر ایک تو غیر مسقف کھلی مسجد بنائی جائے جہاں نماز پڑھی جاسکے اس سے ہٹ کر ایک طرف ایک کمرہ ہو جو سٹور کا کام دے۔ایک حسب ضرورت بڑا شیڈ ہو جو دھوپ اور بارش میں پناہ Shelter کا کام دے باقی زمین میں جنگل اُگانے کے علاوہ بچوں کے لئے پھلدار درخت لگا دیئے جائیں۔اس عید گاہ اور اس سے ملحقہ زمین میں بچوں کو لے جا کر ان کی تربیتی اجتماعات منعقد کئے جائیں نیز تفریح کی غرض سے وہاں پکنک وغیرہ منائی جائے اور دوسروں کے بچوں کو بھی مدعو کیا جائے کہ وہ ہمارے بچوں کے ساتھ مل کر اس جگہ پکنک منا ئیں اس طرح ہمارے بچوں اور دوسرے بچوں میں اور خود بڑوں میں میل ملاپ بڑھے گا اور دونوں کے دورمیان جو Barrier ہے جس کی وجہ سے یہاں کے لوگ ہم سے دور دور رہتے ہیں اور ہمارے قریب نہیں آتے ، ٹوٹنا شروع ہو جائے گا۔اس لئے ضروری ہے کہ ایسی جگہ کی تلاش کی جائے جو آبادیوں سے پرے دور ہٹ کر ہوا اور سستی مل سکے اور رفتہ رفتہ اسے دینی اور جماعتی اغراض کے علاوہ پکنک سپاٹ Picnic Spot اور تبلیغی جگہ کے طور پر بھی ڈیویلپ Develop کیا جا سکے۔سو یہ درمیان میں حائل رکاوٹ یا بیر بیر“ کو توڑنے کا منصوبہ ہو گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس