خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 716
خطبات ناصر جلد هشتم ۷۱۶ خطبه جمعه ۸ راگست ۱۹۸۰ء آپ نے یہ عمارت؟ میں نے کہا ڈیڑھ ملین ( پندرہ لاکھ ) کرونے میں۔وہ فوراً بولے یہ بھی تو کوئی چھوٹی رقم نہیں بہت بڑی رقم ہے۔اللہ تعالیٰ کے ایک اور بہت بڑے فضل کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا اس سے بھی بڑا نشان خدا تعالیٰ نے سپین میں دکھایا ہے۔۱۹۷۰ء میں جب میں سپین گیا اور وہاں شاہی محل الحمرا اور دیگر اسلامی آثار دیکھے تو دل میں بہت درد پیدا ہوا کہ یہ سرزمین جہاں اسلام سات آٹھ سو سال غالب رہا اور جہاں سے علوم وفنون کے چشمے بہہ بہہ کر سارے یورپ کو سیراب کرتے رہے صدہا برس سے اللہ کے ذکر سے خالی چلی آرہی ہے وہاں طلیطلہ کے قریب ایک چھوٹی سی ٹوٹی پھوٹی غیر آباد مسجد تھی اس کے بارہ میں کوشش کی گئی کہ نمازیں پڑھنے کے لئے وہ مسجد ہمیں مل جائے خواہ عارضی طور پر ہی ملے۔حکومت اس بات پر راضی بھی ہوگئی۔لیکن وہاں کے لاٹ پادری نے شدید مخالفت کی اور وہ مسجد نہ مل سکی۔بہر حال سپین ایسے ملک کو جہاں صدیوں اسلام غالب رہا خدائے واحد کے ذکر سے خالی دیکھ کر دل میں بہت درد پیدا ہوا اور میں وہاں اسلام کے دوبارہ غالب آنے کے لئے دعائیں کرتا رہا ایک رات کو میں اس درجہ دردمند ہوا کہ ساری رات سو نہ سکا اور رات بھر دعا کرتا رہا کہ اے خدا! تو رحم کر اور ایسے سامان کر کہ تیرا نور یہاں بھی چمکے صبح کے وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے بتایا گیا کہ جو تو مانگتا ہے وہ ملے گا تو ضرور لیکن ابھی وقت نہیں آیا۔اس سے مجھے تسلی ہوگئی کہ خدا تعالیٰ ضرور فضل کرے گا اور وہ وقت ضرور آئے گا کہ جب یہاں خدا تعالیٰ کا نور پھیلنے کے سامان ہوں گے۔دس سال بعد ایسا انقلاب آیا وہاں کے لوگوں کے ذہنوں میں کہ کہاں تعصب کا یہ حال تھا کہ وہ ہمیں مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت دینے کے لئے تیار نہ تھے اور کہا یہ حالت کہ انہوں نے قرطبہ کے قریب ہمیں مسجد کے لئے زمین خریدنے کی اجازت دے دی ہے چنانچہ وہاں تیرہ کنال سے زائد زمین خرید لی گئی ہے اور حکومت نے وہاں مسجد بنانے کی تحریری اجازت دے دی ہے ( جیسا کہ اطلاع شائع ہو چکی ہے حضور ایدہ اللہ نے ۹ /اکتوبر ۱۹۸۰ء کو وہاں مسجد کا سنگ بنیاد رکھ بھی دیا ہے ) حضور نے مسلم سپین کی عظمت رفتہ اور مسلمان بادشاہوں کی دینداری اور