خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 700
خطبات ناصر جلد هشتم خطبہ جمعہ ۱۱ جولائی ۱۹۸۰ء مخاطب کر کے احکام دیئے ہیں ان کی تعداد ۲۲۷ ہے۔اسی طرح انسان اور الناس کہہ کر جن آیات میں مردوں اور عورتوں کو ایک ساتھ مخاطب کیا گیا ہے ان کی تعداد علی الترتیب ۶۱ اور ۶۷ ہے۔اب رہیں وہ آیات جن میں عورتوں کے جسمانی طور مختلف حالات کے پیش نظر صرف عورتوں کو مخاطب کر کے صرف انہیں احکام دیئے گئے ہیں یا ان کے بعض زائد حقوق کا ذکر کیا گیا ہے سوان کی تعدا دانچاس ہے اس کے بالمقابل جن آیات میں صرف مردوں کا ذکر ہے وہ صرف گیارہ ہیں اس جائزہ سے بھی ظاہر ہے کہ جسمانی تفاوت کے سوا قر آن مجید میں جتنے بھی احکام دیئے گئے ہیں وہ مردوں اور عورتوں کو اکٹھا مخاطب کر کے دیئے گئے ہیں اور دونوں ان میں برابر کے شریک ہیں بلحاظ احکام اور بلحاظ حقوق و فرائض خدا تعالیٰ نے دونوں میں کوئی تفریق نہیں برتی۔اس ضمن میں حضور نے سورۃ النساء کی آیت الرّجالُ قوامُونَ عَلَى النِّسَاءِ (النساء : ۳۵) کا اصل مفہوم بھی واضح کیا چنانچہ فرما یا جہاں تک اس آیت کا تعلق ہے اس میں مردوں کی اس ذمہ داری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو گھر کی جملہ ضرورتوں کو پورا کرنے کے سلسلہ میں ان پر ڈالی گئی ہے اس آیت میں یہ بتانا مقصود نہیں ہے کہ عورتیں مردوں سے کمتر درجہ رکھتی ہیں بلکہ بتانا یہ مقصود ہے کہ مرد گھر کے جملہ اخراجات کو پورا کرنے کے ذمہ دار ہیں اور اس کی طاقت رکھتے ہیں۔حضور نے نیک اعمال کی جزا کے لحاظ سے بھی مردوں اور عورتوں میں مساوات پر روشنی ڈالی اور واضح فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اعمالِ صالحہ کی جزا بھی دونوں کے لئے ایک جیسی رکھی ہے۔اس نے یہ کہیں نہیں کہا کہ مرد نیک اعمال بجالائیں گے تو انہیں زیادہ جزا ملے گی اور عورتیں جو نیک اعمال بجالائیں گی انہیں ان کی مردوں کے مقابلہ میں کم جزا ملے گی اس نے دونوں کے لئے ایک جیسی جزا رکھ کر اس میں کسی قسم کا فرق روا نہیں رکھا بلکہ ان کی ایک مجبوری کی وجہ سے ان کے تھوڑے اعمال کی جزا زیادہ رکھی ہے اور کہا ہے کہ انہیں مردوں کے زیادہ اعمال کے برابر جزا ملے گی مثلاً عورتوں کو بعض ایام میں نماز نہ پڑھنے کا حکم ہے لیکن ثواب مرد کے برابر رکھا ہے یہ نہیں کہا کہ چونکہ مردوں نے زیادہ نمازیں پڑھی ہیں اس لئے انہیں زیادہ ثواب ملے گا۔آخر میں حضور نے مغربی ممالک میں رہنے والے احمدیوں کو ان کے ایک اہم فرض کی