خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page vii of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page vii

V پھر اسی ضمن میں آپ نے دعاؤں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا۔66 دعائیں کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ہم نے جنتوں میں کچھ کئے بغیر تو نہیں جانا۔یہ سارا جو میں نے نقشہ کھینچا ہے اور بتایا ہے کہ ہر قسم کی مادی طاقت فوجی طاقت اور دولت ان لوگوں کے ہاتھ میں جو اسلام کے خلاف ہیں ، تو آپ ان کا کس طرح مقابلہ کریں گے؟ کیا آپ لاٹھیوں کے ساتھ ایٹم بم کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ یا ساری دنیا کی دولتوں کا مقابلہ اپنی غربت کے ساتھ کر سکتے ہیں؟ بظاہر تو یہی ہے کہ نہیں کر سکتے لیکن اگر دیکھا جائے تو ایک لحاظ سے آپ مقابلہ کر سکتے ہیں۔دعاؤں سے کر سکتے ہیں آپ ان کا مقابلہ۔الغرض مقابلہ کر سکتے ہیں آپ دعا ئیں کر کے، اپنے نفس میں ایک تبدیلی پیدا کر کے، ایک نمونہ بن کر ، اسلام کے حکم پر چل کر۔“ ۴ ۱۲ اکتوبر ۱۹۷۹ء کے خطبہ جمعہ میں سپین کے بارہ میں ایک خدائی تفہیم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔” جب میں پین میں گیا تو بڑی بے چینی اور پریشانی اس ملک کے متعلق ہوئی کہ سات سو سال مسلمانوں نے وہاں حکومت کی اور جب وہ مغلوب ہوئے تو مخالفین نے ایک بھی مسلمان باقی نہیں چھوڑا۔بہت دعائیں کرنے کی ایک رات توفیق ملی کہ خدایا تیری رحمت میں رہے صدیوں، تیری رحمت سے محروم ہوئے صدیاں گزرگئیں، پھر ان کے لئے اپنی رحمت کے سامان پیدا کر۔اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ وہ سامان تو پیدا کر دیئے جائیں گے لیکن تیری خواہش کے مطابق نہیں۔اللہ تعالیٰ جب چاہے گا وہ سامان پیدا کرے گا اور آخر یہ غلبہ اسلام کا زمانہ ہے ، غلبہ اسلام کے دائرہ سے پین کی قوم با ہر نہیں رہے گی۔“ ۵۔۷ دسمبر ۱۹۷۹ء کو حضور انور نے علم کے میدان میں جماعت کو توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:۔و ہمیں تو اگلے پندرہ بیس سال کے اندر پہلے سینکڑوں اور پھر ہزاروں کی تعداد میں ٹاپ (Top) کا سکالر (Scholar) چاہیے ہر مضمون میں، اس واسطے کہ اس دنیا میں آج کے انسان نے علم کی اہمیت اور اس کے مقام کو پہچانا ہے اور علم نے اس کو نقصان بھی پہنچایا۔یعنی علم کے میدان میں جب آگے بڑھے تو بہتوں نے یہ سمجھ لیا کہ عقل کافی ہے خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے کی ضرورت نہیں یا بعض مغرور ہو گئے“ ۶۔۴ جنوری ۱۹۸۰ء کے خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔بدعات کے خلاف جہاد بڑا ضروری ہے۔اس کے بغیر تو شاید کچھ معجون مرکب بن جائے