خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 50 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 50

خطبات ناصر جلد هشتم خطبہ جمعہ ۲ فروری ۱۹۷۹ء نے ہمیں تعلیم بھی دی اور ہمارے لئے آپ اُسوہ بھی بنے۔ان کو ہم آداب کہتے ہیں ، کھانے کے آداب ہیں پینے کے آداب ہیں اٹھنے کے آداب ہیں بیٹھنے کے آداب ہیں لباس پہننے کے آداب ہیں بات کرنے کے آداب ہیں۔کون سی بات ہے جس کے آداب نہیں بتائے گئے ہمیں لیکن کون سے ہیں وہ خاندان جو سارے کے سارے ایسے آداب جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کو با اخلاق بنانے کی بنیاد قائم کرنے کے لئے ہمیں بتائے تھے ہم بچوں کو بتاتے ہیں بڑوں کو بھی نہیں بتاتے بعض دفعہ۔بازاروں میں پھرنے کے آداب، بازاروں میں یہ کرنا ہے یہ نہیں کرنا آنکھیں نیچی رکھنی ہیں یہ کرنا ہے۔دکانوں پر کھڑے ہو کر کھانا نہیں کھانا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔یہ پسندیدہ نہیں۔اب تو کھڑے ہو کر وہیں بوتل یوں کھول کر پینے والے غٹ غٹ پی جاتے ہیں تو ہمیں تو بتاتے تھے۔اس کا نتیجہ یہ تھا ایک لطیفہ اور سنادوں آپ کو۔لاہور میں رہے ہم جب تک ۵۴ ء کے شروع میں میں آ گیا تھا کا لج تعمیر کرنے کے لئے پھر ہمارا کالج بھی آ گیا۔ایک دکاندار سے حسب ضرورت میں پھل خریدتا تھا۔دکانداروں کی عادت ہے کہ اسی وقت پھل کی خوبی بتانے کے لئے کوئی اچھا سا انہوں نے مثلاً میں نے سیب لینا ہے تو انہوں نے چن کر اچھا سیب رکھا ہوا ہوتا ہے۔یوں کاٹ کے تو ایک پھاڑی کر دیں گے دیکھیں میرے پاس بہت اچھے سیب ہیں۔میں نے ایک دکاندار کومنتخب کیا میں نے کہا بات یہ ہے کہ میں تو بازار میں کھاتا نہیں چکھوں گا نہیں۔تمہارے اوپر اعتبار کروں گا اس واسطے مجھے اچھی چیز دینا۔جو تم قیمت کہو گے دے دوں گا۔تو دیتا رہا مجھے بڑی اچھی چیز۔ایک دفعہ اس کے دماغ میں پتہ نہیں کیا آیا اس نے کہا یہ تو چکھتا ہی نہیں گھر جا کر تھوڑا سا پھل ہوتا ہے کون واپس آتا ہے دکان پرلڑنے کے لئے تو ہر گندی چیز بھی دے دو۔گھر جا کر ہی پتہ لگے گا نا اس کو۔میں ، دو تین دفعہ اس نے کیا تو میں نے اس کو کہا کہ تم بڑے بے وقوف ہو میں نے کبھی تم سے قیمت کروائی نہیں۔میں بحث نہیں کرتا، میرا وقت زیادہ قیمتی ہے پیسے سے۔تھوڑی سی چیز خریدتا ہوں تمہیں میں نے پہلے سمجھایا تھا میں چکھتا نہیں میں لے جاتا ہوں۔تو ایک ایسا گا ہک تم نے کھو دیا کہ جو تم پر اتنا اعتبار کرنے والا تھا اور لوگ تو تم پر اعتبار نہیں کرتے اور سلام علیکم میں آئندہ تم سے نہیں خریدوں گا۔پھر اس نے بڑا شور مچایا آجائیں