خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 618 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 618

خطبات ناصر جلد هشتم ۶۱۸ خطبه جمعه ۲۹ فروری ۱۹۸۰ء اس نے ، آنکھ دی بڑی عظمت ہے خدا کی کہ ہمیں ایک ایسی چیز دے دی جس سے ہم دیکھتے ہیں۔بڑا احسان ہے اس کا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس سے بھی بڑی عظمت اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ اس نے زمین میں ایسے ذرے پیدا کئے جو آنکھ کا حصہ بنتے ہیں جائے۔جو ہم غذا کھاتے ہیں اس میں ایسے ذرے بھی ہیں۔جو وہ ذرہ ہمارا جسم لے کے تو آنکھ میں پہنچا دیتا ہے جائے۔وہاں کا جو پرانا ذرہ ہے وہ نکال لیتا ہے، باہر پھینک دیتا ہے۔انہوں نے اب معلوم کیا ، ویسے ان کی تھیوری بدلتی رہتی ہے، ایک وقت میں میں نے پڑھا تھا کہ سات سال میں انسانی جسم کا ہر ذرہ بدل جاتا ہے، آنکھ کا بھی ، اس کے دماغ کا بھی ، اس کے بالوں کا بھی ، اس کی ہڈیوں کا بھی ہر ذرہ بدل جاتا ہے لیکن جیسا کہ میں نے بتا یا تھیوریز بدلتی رہتی ہیں بہر حال ایک وقت میں میں نے یہ پڑھا تھا یہ تھیوری انہوں نے بنائی۔تو ایسا ذرہ بنا دینا، جو گو بھی میں، جو گاجر میں، جو مولی میں ، جو شلجم میں ، جو چقندر میں ، جو دوسری ترکاریوں میں، جو بکری میں ، جو گائے میں، جو بھیٹر میں ، جو بیل میں اور بھینسے میں وہ بھی کھایا جاتا ہے، اور پرندے اور چرندے ہم کھاتے ہیں شکار کر کے بھی ، اور مرغ اور مچھلی ، پانی کے جانوران کے اندر اور گوشت میں بھی ایسے ذرے ہیں کہ جس وقت ہمارا ہضم کرتا ہے ان چیزوں کو تو جسم کا نظام دیکھو ایک تو وہ حاصل کرتا ہے وہ ذرہ ، پھر وہ پہنچاتا ہے آنکھ میں وہ نظام اور بغیر کسی ڈاکٹر کی ضرورت اور بغیر کسی سرجن کے آپریشن کے۔وہ ایک ذرہ نکل آتا دوسرا وہاں fitted ہو جاتا ہے اور آنکھ اپنا کام کر رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کا فضل اتنا ہر آن نازل ہو رہا ہے اور انسان اس کو بھول جاتا ہے۔ربوبیت کے لئے ایسی ہستی کی ضرورت تھی کہ جب کامل کر دے شے ، چیز کو تو اس کی حفاظت بھی کرے۔اگر مثلاً مچھلی کے تمام اجزا جو اس میں خدا تعالیٰ پیدا کرنا چاہتا تھا تا کہ انسان کی۔۔۔۔کر سکے پیدا ہو جائیں لیکن اس کے اوپر فرض کرو بیکٹیریا کا حملہ ہو گیا اور ضائع ہو گئیں اور بھیڑیں مرجاتی ہیں اور ان کی حفاظت کا اگر کوئی ذریعہ ہی نہ ہوتا تو یہ چیزیں مٹ جاتیں۔تو ان ربی عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَفیظ ہر چیز کی حفاظت خدا تعالیٰ کر رہا ہے اور وہ پتہ ہمیں اس طرح لگتا ہے کہ میں نے بتایا کہ وائرس کو مارنے والی کوئی چیز انسان کو نہیں پتہ لگی تھی تو شہد کی مکھی جو انسان جیسی عقل تو نہیں