خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 615 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 615

خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۱۵ خطبه جمعه ۲۹ فروری ۱۹۸۰ء نظر آتا ہے، ظاہر ہے باہر اس کا بیج ہے، پھر وہ اُگتا ہے، پھر وہ جھاڑی بنتی ہے، پھر وہ ربوبیت کو چاہتی ہے، نشوونما کو، ارتقائی نشو ونما کو حالاً فحالاً جور بوبیت کے اندر ہے وہ اس کا تقاضہ کر رہی ہے، پھر اس میں پھول لگتے ہیں، پھر بیج لگتے ہیں۔بعض ادویات بیجوں سے بنتی ہیں، بعض اس کے پتوں سے بنتی ہیں ، بعض اس کی ٹہنیوں سے بنتی ہیں اور بعض آپ کو ایک عجیب دوائی بتاؤں ست سلاجیت ایک بڑا چھوٹا سا پودا ہے پتھر کے اوپر کائی سی جمتی ہے، وہ پودا ہے اور اس میں سے پانی نکلتا ہے اور وہ ٹپکتا رہتا ہے۔اگر یہ کائی ایسے پتھر پہ جمی ہو جس میں دراڑ پڑی ہو، آپس میں فاصلہ ہو، پتھر کے دوٹکڑوں کا ، تو اس کے اندر وہ پانی رستہ رہتا ہے۔اور وہ دوائی نہیں ہوتا اس میں کوئی، وہ پانی ہوتا ہے لیکن وہ دوائی بننے کی طاقتیں رکھتا ہے، وہ اس طرح ہوتا ہے جس طرح ایک بچہ رحم مادر میں ہے۔اس کا وجود نہیں باہر دنیا کو نظر آیا لیکن وہ پل رہا ہے اور کئی سو سال اس دیوار کے اندر اس کا قوام بنتا ہے، اس کے خواص جو ہیں ان میں بلوغت اور جوانی پیدا ہوتی ہے، پھر اس کی رنگت بدلتی ہے اور پہلے انہوں نے سمجھا تھا کہ یہ پتھر کے اندر سے نکلنے والی چیز ہے اب صحیح حقیقت کا انکشاف یہ ہوا ہے کہ پتھر کے اندر نہیں وہ تو اس میں رس گرا ہے پودوں کا اور وہ سینکڑوں سالوں میں ست سلاجیت کی شکل اس نے اختیار کی اور سینکڑوں سال لگے اور ایسا دنیا نے یہ معلوم کیا کہ ایک ایسا اینٹی بائیوٹک، بیکٹیریا اور وائرس دونوں کو مارتا ہے۔نمبر دو پہلا شہد کھی بناتی ہے۔نمبر دو پہ اس کو رکھ رہے ہیں۔روس کہتے ہیں اس وقت بہت زیادہ اس پر تحقیق کر رہا ہے، لیکن یہ پہلے دن ست سلاجیت کی شکل میں نہیں انسان کے ہاتھ میں دی گئی ، میں یہ بات وضاحت سے آج آپ کے ذہن میں داخل کرنا چاہتا ہوں کہ جس چیز کو بھی لیں وہ ربوبیت کی محتاج نظر آتی ہے اور کئی مدارج میں سے گزر کے وہ اپنی جوانی کو ، بلوغت کو اور اس شکل کو پہنچتی ہے جس شکل میں پہنچے بغیر وہ اس مقصد کو حاصل نہیں کر سکتی جس مقصد کے لئے وہ پیدا کی گئی ہے۔وہ جوست سلاجیت کے پودے میں سے رستا ہے تو وہ پانی اس لئے پیدا کیا گیا تھا کہ اس سے ست سلاجیت بنے سو سال لگا یا دو سو سال لگا میرے ذہن میں نہیں لیکن وہ ہفتوں اور مہینوں اور سالوں کا نہیں بلکہ سینکڑوں سالوں کا زمانہ ہے جس کے اندرست سلاجیت جو پانی تھی اس نے دوائی کی شکل اختیار کی۔اگر یہ صحیح ہے تو انسان کو اللہ تعالی کہتا ہے کہ تم غور کرو کہ تمہاری ربوبیت