خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 608
خطبات ناصر جلد هشتم ۶۰۸ خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۰ء سے۔جو آئندہ کی ضرورتیں تھیں وہ بھی اس عظیم کتاب کے کتاب مکنون ان حصوں میں ہے جن کا آج نہیں ہمیں علم ، آنے والی نسلوں کو وہ علم دیا جائے گا ایسی کتاب اگر ہے ایسی کتاب کی اے انسان وَ لَبِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم اگر لوگوں کی ، کفار کی ، اس کتاب کے منکروں کی ، کفار کی خواہشات کی تو پیروی کرے گا۔اس کامل علم کے بعد اگر کفار کی خواہشات کی پیروی کرے گا اور قرآن کریم کے احکام کو پس پشت ڈال دے گا تو اس کا نتیجہ یہ نہیں ہوگا کہ تیری ضرورتیں پوری ہو جائیں اور تو اپنی زندگی میں کامیاب ہو جائے۔اس کا نتیجہ قرآن کریم یہ فرماتا ہے کہ ہوگا یہ کہ مَا لَكَ مِنَ اللهِ مِن وَلِ وَلَا وَاق۔دو چیزیں ظاہر ہوں گی۔خدا کی دشمنی تم مول لو گے مَا لَكَ مِنَ الله من ولي پھر جب انسان کی دوستی لینے کے لئے جب خدا کی دشمنی مول لے لو گے، کامیاب کیسے ہوگے وَلا وَاق اور اگر یہ سمجھو کہ ٹھیک ہے خدا دشمن ہو گیا کوئی دنیا میں ایسی طاقت ہے جو ہمیں خدا تعالی کی دشمنی اور اس کے قہر سے بچالے گی یہ غلط ہے۔ولا واق خدا کے قہر سے کوئی بچانے والا نہیں اس کائنات میں۔اس لئے وہ شخص جس کے دماغ میں ذرا برابر بھی عقل ہے وہ سن لے کہ اگر خدا تعالیٰ کے قہر سے بچنا ہے اور اگر اس کو دشمن نہیں دوست بنانا ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعلان کرتے ہیں کہ کفار کی خواہشات کی پیروی نہیں کرنی بلکہ خدا تعالیٰ کے احکام کی پیروی کرنی ہے اور خدا تعالیٰ کے احکام کی پیروی جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی۔آپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس طرح پیروی کرنی ہے۔پیروی میں بھی اپنے نتائج نہیں نکالنے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہمارے لئے ایک کامل نمونہ پیش کر دیا۔آپ کے نقش قدم پر چلو۔خدا مل جائے گا۔خدا کا پیار مل جائے گا۔خدا کی دوستی مل جائے گی۔خدا کی پناہ مل جائے گی۔پھر دنیا کی کوئی طاقت جتنی چاہے دشمنی کر لے نقصان نہیں پہنچا سکتی۔اذیت پہنچا سکتی ہے۔کیونکہ آزمائش لینا چاہتا ہے اس زندگی میں خدا۔دکھ پہنچا سکتی ہے عارضی لیکن نا کام نہیں کر سکتی۔ابدی سرور سے ، ابدی آرام سے ، ابدی جنتوں سے محروم نہیں کر سکتی دنیا کی کوئی طاقت۔اور یہ چیز ہے، یہ بات ہے جسے انسان آج بھولا ہوا ہے۔اور انسان کو اسے باور کرانے کے لئے جماعت احمدیہ کو قائم کیا گیا ہے اور آپ کا پہلا فرض یہ ہے کہ آپ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے