خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 607 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 607

خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۰۷ خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۰ء کرتے ہیں کہ جس نے ہمیں پیدا کیا اسی نے ہمارے لئے ان دواؤں کو بھی پیدا کیا لیکن دواؤں کی تاثیر ہوگی یا نہیں ہوگی یہ اپنے ہاتھ میں رکھی ،متصرف بالا رادہ ہے وہ۔ایک ہی دوائی ہے بڑا مشاہدہ کیا ہم نے ایک ہی دوائی ہے وہ ایک شخص کو ایک ہی بیماری میں فائدہ پہنچا رہی ہے دوسرے کو نہیں پہنچا رہی۔ایک کے متعلق خدا کہتا ہے کہ شفا دے اور دوسرے کے متعلق کہتا ہے کہ شفا نہ دے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کسی کو شفا نہیں دینا چاہتا تو وہ دوائی کے ذرات کو کہتا ہے اس انسان کے جسم پر اثر نہ ڈالو جتنا مرضی کھا لے اثر کوئی نہیں ہوگا اور انسان کے جسم کے ذرات کو کہتا ہے کہ اس دوائی کے کیمیاوی اجزا جو ہیں ان سے اثر قبول نہ کر۔تو دونوں طرف سے حکم نفی کا آ جاتا ہے۔وہ تڑپتا ہے بلبلاتا ہے لیکن دوائی صحیح ہے تشخیص صحیح ہے آرام نہیں آتا۔پھر وہی بیمار ہے جب وہ انسان بیمار یا اس کا کوئی بزرگ اس کے لئے دعائیں کرتا ہے اور خدا تعالیٰ وہ دعا قبول کر لیتا ہے تو اس صورت میں اسی بیمار کے لئے دو احکام آسمانوں سے نازل ہوتے ہیں ایک دوا کی طرف خدا کا حکم نازل ہوتا ہے کہ وہ جو پابندی تھی وہ میں اُٹھارہا ہوں اب تو اس انسان کے جسم کے ذرات پر اثر کر اور ایک انسانی جسم کے ذرات کے او پر خدا کا حکم نازل ہوتا ہے کہ اے اس خاص فرد واحد کے جسم کے ذرواب اس دوائی کے اثر کو قبول کرلو۔مہینہ مہینہ دو دو مہینے بعض دفعہ چھ چھ مہینے بعض دفعہ سالوں بے اثر ہوتی ہے وہ دوا اور اس کے بعد وہ بااثر ہو جاتی ہے اور بیمار جو ہے وہ شفا پا لیتا ہے۔اس کی طرف رجوع کرنا چاہیے وَ الَیهِ مَأْب۔ہر ضرورت کے وقت زندگی کے ہر لمحہ میں میں اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔میرے نقشِ قدم پر چلو اور اس کی طرف رجوع کرو۔آٹھویں ان آیات میں یہ بتایا کہ قرآنِ کریم میں ہر حکم کو جس کی انسان کو ضرورت تھی اس کی جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی ترقیات کے لئے کھول کر بیان کر دیا ہے۔ہر حکم کو بنیادی طور پر قرآن کریم نے کھول کر بیان کر دیا اور کامل دین آگیا۔اس کامل دین کے بعد نویں بات یہ بتائی دین کامل آ گیا۔کوئی اس میں رخنہ نہیں ، کوئی اس میں کمزوری نہیں، کوئی بات چھپی ہوئی نہیں۔ضرور کوئی بات ضرورت کی رہ نہیں گئی بیان ہونے