خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 602 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 602

خطبات ناصر جلد هشتم ۶۰۲ خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۰ء تجھ سے یہ بحث کریں کہ تو میرا شریک بنائے تو ان کی بالکل اطاعت نہیں کرنی لیکن دنیوی معاملات میں ان سے حسن سلوک کرو، ان کا کہنا بھی مانو۔تو خدا تعالیٰ کی اجازت کے دائرہ کے اندر والدین سے حسن سلوک بھی کرنا ہے۔کیونکہ ان کا بڑا احسان ہے بچوں کی پرورش کے نتیجہ میں، ان کا خیال رکھنے کے نتیجہ میں، ان کے لئے راتوں جاگنے کے نتیجہ میں، ان کی خاطر خود بھوکا رہ کے ان کا پیٹ پالنے کے نتیجہ میں باپ اور ماں بڑی قربانی دیتے ہیں اپنے بچوں کی پرورش میں، لیکن خدا تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ میری اجازت کے دائرہ کے اندر ان کی اطاعت کرو، ان سے حسن سلوک کرو، ان سے پیار کرو، ان کی خدمت کرو، ان کی تکلیفوں کو دُور کرو لیکن اگر وہ تم پر زور دیں ان احسانات کے بدلہ میں جو احسانات انہوں نے اس لئے کئے کہ میں نے انہیں احسان کرنے کی طاقت اور قوت عطا کی تھی تو پھر تم نے شرک نہیں کرنا ، پھر ان کے دائرہ اطاعت میں داخل نہیں ہو نا بلکہ میری طرف رجوع کرنا ہے۔دوسری بات ان آیات میں یہ بتائی گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا گیا کہ یہ اعلان کر دو کہ اللہ تعالیٰ کا مجھے یہ حکم ہے کہ میں اس کی کامل اطاعت کرنے والا بنوں۔قرآنِ کریم سے ہمیں پتا لگتا ہے کہ کسی فرد پر اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا جتنے کی اسے طاقت دی گئی ہو، تو جب یہ کہا کہ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ بنوں۔لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ تو اس میں یہ بھی اعلان تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے نسل انسانی میں آدم کی اولاد میں سب سے زیادہ اس بات کی طاقت دی کہ وہ خدا تعالیٰ کے فرمانبردار بنیں۔اور ان رفعتوں تک پہنچ جائیں خدا داد قوتوں اور استعدادوں کی وجہ سے، ان کی صحیح نشو و نما کے نتیجہ میں ، کہ جن رفعتوں تک کوئی دوسرا انسان نہیں پہنچ سکتا۔کامل فرمانبرداری کے نتیجہ میں انتہائی پیار جو غیر کامل، سب سے زیادہ فرمانبردار جو نہیں اس کو نہیں مل سکتا۔سب سے زیادہ پیار اللہ تعالیٰ کا اسی کو ملے گا جو خدا تعالیٰ کا سب سے زیادہ فرمانبردار بنے گا۔جس کی طاقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت میں ودیعت کی گئی۔طاقت بھی دی، ان طاقتوں کے نشو نما کے حالات بھی پیدا کئے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود پیار سے ایسی تربیت بھی دی اللہ تعالیٰ نے کہ وہ اپنی قوتوں اور استعدادوں کی صحیح اور کامل نشو و نما