خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 600 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 600

۶۰۰ خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۰ء خطبات ناصر جلد هشتم اور یہ بھی کہہ دو کہ اللہ نے مجھے یہ اعلان کرنے کے لئے کہا ہے کہ میری عبادت اور اطاعت کو اس نے قبول کیا۔اس لئے اے سننے والوسن لو! کہ میں اللہ کی عبادت اپنی اطاعت کو صرف اس کے لئے وابستہ کرتے ہوئے کرتا ہوں۔سورہ رعد میں اللہ تعالیٰ نے فرما یا قُلْ إِنَّمَا اُمِرْتُ یہ اعلان کر دو۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا یہ اعلان کر دو کہ مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤں۔میں اس کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف میں بھی رجوع کرتا ہوں۔وَكَذلِكَ انْزَلْنَهُ حُكْمًا عَرَبِيًّا اور اسی طرح ہم نے قرآنِ کریم کو ایک مفصل حکم، احکام کا ملہ کے ساتھ مفضل حکم کی صورت میں اُتارا ہے اور اسے مخاطب ! اگر تو نے اس علم کے بعد جو تجھے حاصل ہو چکا ہے نزول قرآن کے ساتھ ، ان کفار کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلہ میں نہ تو تیرا کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا اللہ تعالیٰ کے قہر سے۔ان آیات میں دس باتوں کا مجملاً بیان ہے۔اول یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ اطاعت اللہ ہی کے لئے مخصوص کرتے ہوئے اس کی عبادت کروں۔اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو خدا تعالیٰ کی عبادت بھی کرتے ہیں لیکن اطاعت میں غیر اللہ کو شریک بھی بناتے ہیں۔اسلام میں قرآن کریم کی تعلیم میں جہاں بھی غیر اللہ کی اطاعت کا حکم ہے۔بہت جگہ کہا مثلاً والدین کی اطاعت کرو، سب سے بڑا حکم یہ دیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو، اطاعت کرو، وہاں ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ یہ اطاعت اسی لئے کرو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت دی اور اس کا حکم دیا۔اللہ تعالیٰ کی اجازت اور حکم کے بغیر کسی انسان کو غیر اللہ کی ، اللہ کے سوا کسی اور کی اطاعت نہیں کرنی چاہیے۔قرآنِ کریم میں یہ جو میں نے کہا کہ اجازت دی اور حکم دیا اس کی میں دو مثالیں یہاں بتاؤں گا تا کہ ہر شخص اچھی طرح سمجھ لے۔سب سے تاکیدی حکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا ہے۔اور اس کے متعلق بھی یہ اعلان ہوا کہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلو، آپ کی اطاعت کرو