خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 578 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 578

خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۷۸ خطبه جمعه ۸ فروری ۱۹۸۰ء سے اتنی زیادہ ہے کہ دنیا اس کے مقابلے میں ایک حقیر ذرے سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔وَاطْمَاتُوا بِهَا لیکن یہ لوگ بد قسمت دنیاوی زندگی پر اطمینان پکڑ لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دنیوی زندگی کے علاوہ کچھ اور حاصل کیا ہی نہیں جاسکتا۔مزید ترقیات کا خیال وہ ترک کر دیتے ہیں۔دنیا دار دنیا پر ٹھہر جاتا ہے۔اطمینان پکڑ لیتا ہے۔اس سے کہیں بہتر احسن ارفع ترقیات کو نظر انداز کر دیتا ہے اس کے لئے کوششیں ترک کر دیتا ہے۔اور یہ جو رَضُوا بِالْحَيَوةِ الدُّنْیا ہے راضی ہو گیا یہ پورے کا پورا راضی ہو جاتا ہے۔اس میں پھر کسی اور رضا کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔یہ وقتی نہیں ہے رَضُوا بِالْحَيَوةِ الدُّنْيَا بلکہ اپنے نزدیک وہ سب کچھ یہی سمجھتے ہیں اور اپنی ہلاکت کا سامان پیدا کرتے ہیں۔چوتھی بات یہاں یہ بتائی : وَالَّذِينَ هُمْ عَنْ ابْتِنَا غُفِلُونَ - لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا - رَضُوا بِالْحَيوةِ الدُّنْيَا وَاطْمَانُوا بِهَا کالازمی نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اپنی رحمت سے جوا پنی آیات نازل کیں اس معنی میں بھی کہ قرآن کریم میں تمام وہ آیات آ گئیں کہ جو تعلیم کے لحاظ سے شریعت کے لحاظ سے ہدایت کے لحاظ سے اپنے کمال کو پہنچی ہوئی ہیں اور اس لحاظ سے بھی کہ قرآن کریم پر عمل کرنے کے نتیجہ میں انسان اللہ تعالیٰ کی ان آیات کے مشاہدے کرتا ہے کہ جو تعلیم میں نہیں بلکہ اس کائنات میں نشان، آسمانی نشان جو خدا تعالیٰ کی محبت ظاہر کرتے ہیں، وہ آسمانی نشان جو وہ اپنے بندوں کے لئے بطور مدد اور نصرت کے بھیجتا ہے ، وہ آسمانی نشان جوان لوگوں پر قہر کی تجلی کی صورت میں آسمان سے اترتے ہیں جو اس کے پیاروں کو ستانے والے ہیں، وہ آسمانی نشان جن سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین کی دنیا اور آسمان بھر پور اور معمور ہے اتنی کثرت سے نشان ، اتنے عظیم نشان، ظاہری نشان، باطنی نشان تعلیم کے لحاظ سے نشان ،معجزات کے لحاظ سے نشان ، خدا تعالیٰ کے پیار کے جلوے، ان سے غافل۔یہ لازمی نتیجہ نکلا اس کا۔اور اس غفلت کے نتیجہ میں نشان تو جھنجھوڑتے ہیں چاہے وہ انذاری نشان ہوں خواہ وہ تبشیری نشان ہوں خواہ وہ تعلیمی نشان ہوں خواہ وہ حسن ہو ہدایت اور شریعت کا ، خواہ وہ کمال ہو اصول شریعت کا خواہ وہ روشن راہ ہو جس کے اوپر چلنے کی ہمیں ہدایت دی گئی ہے خواہ وہ نور ہو جو خدا تعالیٰ کے