خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 570 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 570

خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۷۰ خطبه جمعه یکم فروری ۱۹۸۰ء کے مطابق بناؤ۔وہ بدر سومات، ہر وہ عمل عَمَل غَيْرُ صَالِح تھا جو قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف تھا وہ زبانِ حال سے کہہ رہا تھا کہ ہم بدلا ہوا قرآن چاہتے ہیں۔وہ قرآن نہیں چاہتے ، وہ تعلیم نہیں چاہتے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ نازل کی۔اگر ہم احمدی واقع میں خدا تعالیٰ کی معرفت رکھنے والے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرنے والے اور حقیقتا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے لئے اسوہ سمجھنے والے اور آپ کے اعلانات کی قدر کرنے والے انّي أَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ کا بھی آپ نے اعلان کیا ہے، اس حقیقت کو سمجھنے والے ہیں تو ہمیں تمام بد رسومات کو چھوڑنا پڑے گا۔تمام بدعملیوں سے اجتناب کرنا پڑے گا۔وہ زندگی اپنے معاشرہ میں پیدا کرنی پڑے گی۔۔۔۔۔قُلْ مَا يَكُونُ لَى أَنْ أَبَدِ لَهُ مِنْ تِلْقَايُّ نَفْسِی یہ اعلان جو ہے وہ صرف ان کے لئے نہیں جو آپ کی زندگی میں انہوں نے بہتوں نے کہا۔قرآن کریم کہتا ہے وَذُوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ ވ (القلم :۱۰) آپ نے فرما یا قُلُ مَا يَكُونُ لَى اَنْ أبَدِلَهُ مُجھ میں طاقت نہیں ہے۔قدرت نہیں ہے مجھ میں۔اس کے کئی معنے ہیں جو اس لفظ میں پوشیدہ ہیں۔بڑا ہی پیارا فقرہ ہے۔ہر فقرہ ہی قرآن کریم کا پیارا ہے۔کبھی وہ نمایاں ہو کر ہمارے سامنے آجاتا ہے اس کا حسن۔کبھی ہماری غفلتوں کے نتیجہ میں نہیں نمایاں ہوتا۔ایک اس کے معنے یہ ہیں کہ کہہ دے مَا يَكُونُ في مجھ میں یہ طاقت نہیں ہے کہ میں بدلوں اس لئے کہ میں نے خدا کے نور کو، اس کے حسن کو اپنی زندگی میں دیکھا اور مشاہدہ کیا۔میں۔۔۔میں اپنے رب کا عاشق ہوں۔اس کے حسن کو دیکھ کے علی وجہ البصیرت صرف کہانیاں سن کے نہیں۔میں نے ایک نور کو پایا۔حسن کو دیکھا۔میری آنکھیں کھل گئیں۔مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ میرا معشوق مجھے ایک بات کہے اور میں اس کو تبدیل کروں۔قُلْ مَا يَكُونُ لِی میری طاقت میں نہیں ہے کہ میں بدلوں۔ایک معنے یہ ہیں مَا يَكُونُ کے۔دوسرے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اپنی عظمت وجلال کے جلوے میرے پر ظاہر کئے ہیں۔اس کی کبریائی، اس کا جلال جو ہے اس کی میں معرفت رکھتا ہوں اور اس عظمت و جلال کے