خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 557 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 557

خطبات ناصر جلد هشتم خطبه جمعه ۲۵ جنوری ۱۹۸۰ء فرماتا ہے۔يُرِيدُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ کہ دنیا میں ایسے لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کو مانتے نہیں یا خدا تعالیٰ کی طرف سے جو صداقت اس وقت انسانوں کی ہدایت کے لئے قائم ہے اسے وہ سمجھتے نہیں يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ شہوات نفسانی کی طرف مائل ہونے والے ہیں وہ خود جہنم کی راہوں کو اختیار کرنے والے ہیں ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ سارا معاشرہ انہیں کے نقش قدم پر چلے دوسروں کو خراب کرنے والے ہیں۔اَنْ تَبِیلُوا مَيْلًا عَظِيمًا کہ تم بھی اپنی پوری توجہ اور پوری طاقت کے ساتھ انہیں کی راہوں کو اختیار کرو جو راہیں شہوات نفسانی کی راہیں ہیں کیونکہ وہ اس کی اتباع کر رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں یہ نہیں چاہتا۔وَاللهُ يُرِيدُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْكُمْ خدا تو یہ چاہتا ہے کہ اگر تم ایسی راہوں پر گامزن ہو تو واپس آؤ اس کی طرف۔تو یہ کرو تم اور خدا تعالیٰ تمہیں اپنی تو بہ سے نوازے اور رحمتوں سے نوازے یہ نفس کے بندے جو ہیں یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی بدی کی طرف بالکل جھک جاؤ اور بوجھ کے تلے دب جاؤ۔لیکن يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكُمْ یہ تمہارے او پر ایسا بوجھ لادر ہے ہیں کہ تمہیں زمین میں گاڑ دیں اور جہنم تک لے جائیں۔لیکن خدا یہ چاہتا ہے کہ آن يُخَفِّفَ عَنْكُمْ کہ تم سے بوجھ کو ہلکا کرے۔خدا تعالیٰ کا ہر حکم جو ہے وہ ہم پر بوجھ نہیں لا دتا ہمارے بوجھ کو کم کرنے والا ہے۔وَخُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا اور انسان جو ہے اس کے اندر یہ ضعف پایا جاتا ہے کہ اس کو ڈھیل دی گئی ، اجازت دی گئی کہ اگر چاہے تو غلط راستوں کو اختیار کرے لیکن اس ضعف کا علاج خدا تعالیٰ نے ایک عظیم ہدایت کے ذریعے کر دیا قرآن کریم نازل ہو گیا۔اللہ یہ چاہتا ہے کہ تم سے گناہ کا بوجھ ہلکا کرے، گناہ کا بوجھ جو زمین کی طرف جھکا دیتا ہے۔اللہ چاہتا ہے کہ يُخَفِّفَ عَنكم تمہارے بوجھ ہلکا کرے تا تم ہلکے ہونے کے بعد آسمان کی رفعتوں کی طرف پرواز کرسکو اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکوتا اس کا فضل تمہاری بشری کمزور یوں تمہارا ضعف جو ہے بشری کمزوریوں کا ضعف ، اسے وہ دور کر دے اور تم بہا در جانثار اس کے بن سکو۔خدا تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا کرے اور ہم خدا تعالیٰ کے ہی بندے بنیں۔غیر اللہ کی طرف ہما را میلان نہ ہو ہم اس کی طرف جھکنے والے ہم اس کی طرف دنیا کے بوجھوں سے ہلکے پھلکے ہو کر