خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 555
خطبات ناصر جلد ہشتم خطبه جمعه ۲۵ جنوری ۱۹۸۰ء ہیں ان سے بھی ہم تمہیں روکتے ہیں۔ایک دوسرے کو قتل نہ کرو۔پھر فرما یا بڑی کھلی وارننگ انداز ہے بڑا کھلا۔وَ مَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًا وَ كَانَ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا جو کوئی ایسا کام کرے، حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تفسیر صغیر میں ذلِكَ “ کی تفسیر باطل کے ذریعہ سے مال کھانے کی طرف پھیری ہے۔آپ نے معنی یہ کئے ہیں کہ جو شخص بھی یہ۔یعنی دوسرے کا مال کھانا۔زیادتی اور ظلم کی وجہ سے کرے گا اسے ہم ضرور آگ میں ڈالیں گے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ناجائز اور ناحق باطل کی راہوں کو اختیار کرتے ہوئے دوسروں کے مال کھانا عدوان بھی ہے، ظلم بھی ہے۔اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود کو بھی تو ڑتی ہے یہ بات اور انسانوں پر ظلم بھی کر رہا ہے تمہارا یہ فعل۔تو دہرے گنہ گار بن کے تم خدا کے حضور پیش ہوتے ہو۔خدا کی حق تلفی بھی (خدا کے حقوق یہی ہیں نا کہ جو اس نے کہا وہ کہنا مانو ) وہ تو غنی ، بے نیاز ہے۔اس کو تو ہماری خدمت کی ضرورت نہیں۔ہمارے اموال کی ضرورت نہیں۔ہماری دولت کی ضرورت نہیں ، ہماری ایجادات کی ضرورت نہیں ، ہماری انڈسٹری کی ضرورت نہیں ،کسی چیز کی ضرورت نہیں۔وہ ہمیں رزق دیتا ہے ہر قسم کا اور کوئی دنیا کی طاقت اسے رزق پہنچانے کی اہلیت ہی نہیں رکھتی۔نہ رزق کی اسے ضرورت ہے۔وہ تو اپنے نفس میں زندہ اور قائم رہنے والی ہستی ہے۔اللہ کا حق یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ کا حق یہ ہے کہ اس کی اطاعت اس رنگ میں کی جائے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بے شمار فضل اور رحمتیں ہمارے اوپر کی ہیں ان کے ہم شکر گزار بندے بنیں اور اس کی ذات اور صفات کی معرفت حاصل کر کے ہر وقت اس کی حمد کرنے والے ہوں، اس کی پاکیزگی بیان کر نیوالے ہوں، اس کی کبریائی کا اعلان کرنے والے ہوں ، اس کی عظمتوں کے گیت گانے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف انسان کی حق تلفی نہیں۔کیونکہ اس میں انسان یہ دھوکا کھا سکتا ہے کہ انسان کی حق تلفی ان حقوق کے لحاظ سے ہو رہی ہے جو اس نے خود بنائے۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے یہ عدوان بھی ہے۔یہ حدود سے تجاوز کرنا بھی ہے۔کون سے حدود؟ جو خدا نے قائم کئے اور یہ ظلم بھی ہے ظلم کے بنیادی معنی ہیں، ذیلی معنی بھی ہیں ، نمایاں معنی جو یہاں