خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 532
خطبات ناصر جلد ہشتم ۵۳۲ خطبه جمعه ۴ جنوری ۱۹۸۰ء رومال بھی باندھا سر پر اور اس قسم کا جواب رواج ہے جس طرح عمامہ عرب کا وہ بھی پہنا اور بڑا عمامہ بھی پہنا اور قمیص جتنی قمیصوں کی قسمیں اس وقت رائج تھیں ساری استعمال کیں اور دھوتی بھی پہنی اور پاجامہ بھی پہنا اور شلوار بھی پہنی ، سارے حوالوں کا ذکر کر کے پھر اس سے نتیجہ یہ نکالا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت یہ ہے کہ جو لباس میٹر آئے وہ استعمال کرو بڑا صحیح نتیجہ نکالا ہے اور ساری دنیا کے لئے بڑی عجیب گائیڈنس دے دی جو میسر آتا ہے وہ پہنو۔ٹھیک ہے اسلام نے کہا ہے بعض ننگ ہیں جن کو اسلام کہتا ہے ڈھانکو وہ ڈھانکنے چاہئیں۔اور اگر کوئی ضرورتیں ہیں وہ پوری ہونی چاہئیں۔اسلام کہتا ہے کہ ایسی طرز نہ ہو کہ نمائش کے خیال سے پہنا جائے۔ضرورت کے لئے نہ ہو بلکہ نمائش کے لئے ہو۔اسلام کہتا ہے کہ نمائش نہیں کرنی۔اس حد تک وہ ٹھیک ہونا چاہیے۔تو یہ جو آداب ہیں جو اخلاق میں معلم کو موٹے موٹے ہی بتانے پڑیں گے اس کے لئے ایک چھوٹی سی نوٹ بک ان کے لئے تیار کریں اور نوٹ بک کی تیاری میں بھی نمائش نہ ہو سادہ زبان میں ہر بات کو Cover کرنے والی ہو وہ۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا کرے اور جس رنگ میں ، جس لباس میں ، جس ذہن کا ،جس اخلاق کا ، جس روحانیت کا انسان خدا تعالیٰ ہمیں دیکھنا چاہتا ہے ہم وہی بن جائیں۔پھر حضور انور نے فرمایا:۔کھانسی آرہی ہے ایک خیال آ گیا۔ہمارے جلسہ سالانہ کی حسین یادیں اور گہرے اثرات تو چلتے ہیں، سالوں چلتے ہیں اگلے جلسہ تک ان کے اندر اور شامل ہو جاتے ہیں کچھ اس قسم کی چیزیں بھی ہیں مثلاً کھانسی ہوگئی۔اب جلسے کی کھانسی ہے وہ ابھی تھوڑی سی چل رہی ہے خطبے میں نہیں آئی بعد میں آگئی میرے بھی۔کافی فرق پڑ گیا ہے۔راستے میں میں نے دیکھا کہ دکانیں ہیں جلسے میں ایک ان کا فائدہ تھا ضرورت مندوں کے لئے وہ چیزیں مہیا کر رہی تھیں ، کھانے پینے کی ، دوسری۔اب وہ چلی گئیں ان کے اثرات