خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 485 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 485

خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۸۵ خطبه جمعه ۳۰ / نومبر ۱۹۷۹ء عمرہ کی طاقتیں ، عمر کی عقل جب گھر سے نکلے تھے وہ نہیں تھی جو اس وقت تھی جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے ؟ وہی تھی۔ہماری عقل اگر ہم غور کریں اس نتیجہ پر پہنچنے پر مجبور ہے کہ ہماری عقل بھی صحیح فیصلے اسی وقت کرتی ہے جب اللہ تعالیٰ کا انفرادی امر آسمان سے نازل ہو۔ورنہ عقل تو اندھی ہے اگر نیر الہام نہ ہو۔عقل تو دھندلکوں میں دیکھنے والی ہے اگر وحی کی روشنی اسے میسر نہ آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فارسی میں اس مضمون کے کچھ شعر کہے ہیں۔ان میں سے ایک دو میں نے آج کے لئے منتخب کئے ہیں۔آپ فرماتے ہیں:۔ہوش دار اے بشر کہ عقل بشر دارد اندر نظر ہزار خطر اے انسان ہوش سے کام لے کہ انسانی عقل کو نظر وفکر واستدلال میں ہزار خطرات پیش ہیں۔عقل سوچتی تو ہے نا یہ اس کا کام ہے لیکن خطرات ہیں اس کے سامنے بڑے۔هست بر عقل الہام که از و پخت ہر تصویر خام عقل پر یہ وحی والہام کا احسان ہے کہ اس کی وجہ سے عقل ناقص کی سوچ پختہ ہوگئی اور اس نے دھندلکوں سے نکال کر عقل کو یقین کی روشنی میں پہنچادیا۔پھر آپ فرماتے ہیں اور بہت لطف آتا ہے اس شعر میں جو بیان کیا ہے جو استدلال کیا ہے جس طرح چھوٹی سی بات کہہ کے آپ نے بیان کر دیا۔جس سے شروع میں میں نے بھی استدلال کیا تھا۔گر خرد پاک از خطا بودے ہر خرد مند با خدا بودی اگر عقل غلطی سے پاک ہوتی ، اگر عقل ہمیشہ غلطی سے پاک ہوتی تو ہر صاحب عقل باخدا ہوتا لیکن نظر تو یہ آ رہا ہے کہ جو عقلی میدانوں میں دنیوی لحاظ سے آسمانی رفعتوں تک پہنچے وہ روحانی طور پر