خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 484
خطبات ناصر جلد هشتم ۴۸۴ خطبه جمعه ۳۰ / نومبر ۱۹۷۹ء پڑھ یاسن کے ہدایت نہیں پاسکتا یعنی یہ کافی نہیں ہے انسانی عقل کے لئے کہ قرآن ہے کافی ہے ہمیں خدا تعالیٰ کے امر کی انفرادی آسمانی حکم کی ، ہماری عقل یہ جو وارد ہوتا ہے ہمیں بعض دفعہ پتا بھی نہیں لگتا اکثر پتا نہیں لگتا کہنا چاہیے لیکن بہر حال وہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے۔اس کی ہمیں ضرورت نہیں۔اگر قرآن کریم کی ہدایت جو اس قدر کامل اور مکمل ہے اگر قرآن کریم کی ہدایت جو اس قدر محسن اپنے اندر رکھتی اور قوت احسان جس میں پائی جاتی ہے اگر قرآن کریم کی ہدایت جس میں اس قدر جذب ہے مقناطیس میں اتنا جذب نہیں جتنا اس کے اندر ہے۔باہر جاتے ہیں قرآن کریم کی کوئی چھوٹی سی آیت پیش کر دیتا ہوں میں تو یوں کھنچتے ہیں اس کی طرف غیر مسلم یعنی اسلام کو نہیں مانتے لیکن اس وقت ان کے اوپر اثر ہوتا ہے اور وہ کھنچتے ہیں اس کی طرف۔بڑا اثر رکھنے والی ہے۔اگر یہ کافی ہوتی تو رؤسائے مکہ نے تیرہ سال تک جو مظالم ڈھائے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین پر یہ نظارہ تو دنیا نہ دیکھتی۔ہدایت ہے قرآن کریم جیسی ہدایت روحانی طور پر ایک ایسا نور کہ آنکھیں چندھیا جائیں عقل دنگ رہ جاتی ہے لیکن کوئی فائدہ نہیں۔قرآن کریم کی ہدایت ہے رؤوسائے مکہ وہاں رہ رہے ہیں جن میں حضرت عمر بھی ہیں اور بڑے غصے میں ہیں بڑے دلیر ہیں بڑے طاقتور ہیں بڑے رعب والے ہیں اور ان کے دل میں خیال آتا ہے قرآنِ کریم کی ہدایت ہوتے ہوئے عمر کی عقل نے یہ فیصلہ کیا۔قرآن موجود تھا جب عمر کی عقل نے یہ فیصلہ کیا ( رضی اللہ عنہ ) کہ جاتا ہوں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ، انہوں نے تو محمد ہی کہا ہو گا سوچا ہوگا۔گردن اڑا دیتا ہوں میں اپنی تلوار سے۔ختم ہو جائے گا یہ سارا قصہ۔کیا شور مچایا ہوا ہے بتوں کو بُرا بھلا کہتا ہے اور ایک خدا کی منادی کر رہا ہے۔یہ کیا فساد پیدا کیا ہے ہمارے معاشرہ کے اندر۔ساری عمر کی عقل اس نتیجہ پہ پہنچی۔قرآن موجود تھا وہاں اور نتیجہ یہ نکالا عقل نے کہ جا کے قتل کر دیتے ہیں۔اسلام کو ختم کر دیتے ہیں۔اس عقلی فیصلے کے ساتھ اپنے گھر سے نکلے۔وہی عمر وہی ان کی طاقت ، وہی ان کا جوش، وہی ان کا جذبہ، وہی ولولہ ، وہی ہاتھ میں تلوار ، اور اس کی دھار اتنی ہی تیز۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ابھی پہنچے نہیں تو آسمان سے حکم نازل ہو گیا کہ اسلام لا ؤ اور جب وہاں پہنچے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو علم تھا کہا کہ کدھر آئے ہو عمر۔بیعت کرنے آیا ہوں۔