خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 464
خطبات ناصر جلد هشتم ۴۶۴ خطبہ جمعہ ۱۶ نومبر ۱۹۷۹ء اس کا حکم نہیں مانتے ، وہ روکتا ہے ہم گناہ کر دیتے ہیں، نہیں جانتے کہ ہم اس کا کفارہ کیسے ادا کریں مگر وہ اتنا پیار کرنے والا ہے کہ گناہگار کو کہتا ہے کہ اس طرح کر تیری دعا قبول کرلوں گا، تیرے گناہ کو اپنی مغفرت کی چادر کے نیچے ڈھانپ لوں گا یعنی جس کا گناہ کیا ہے وہ بتا تا ہے راستہ اس گناہ کے بداثرات سے بچنے کا ، حفاظت کا، کبھی کبھی یہ انسان بھی تھوڑی سی نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی صفات کی۔ایک عرب کے متعلق مشہور ہے کہ اس زمانے میں اس علاقے میں سب سے تیز گھوڑی بھی اس کی تھی (نمبر 1) اور دوسرے نمبر کی گھوڑی بھی اس کی تھی۔سارے عرب میں مشہور تھا کہ فلاں سردار کے پاس جو دو گھوڑیاں ہیں وہ دونوں سب سے تیز ہیں۔ایک سب سے تیز۔ایک دوسرے نمبر پر وہ بھی اس کے پاس۔چور بھی تاک میں تھے ایک دن ایک چور کا لگا داؤ۔وہ خیموں میں رات گزارتے تھے اور بغیر کاٹھی کے بھی سوار ہو جاتے تھے۔بس اس نے اس کا رسہ کھولا چھلانگ لگائی گھوڑی کی پیٹھ کے اوپر اور ایڑی لگا دی۔اتنے عرصے میں مالک کی آنکھ کھل گئی۔اس نے دوسرے نمبر پر جو تیز گھوڑی تھی وہ کھولی اس کے اوپر بیٹھا اس کا پیچھا کرنا شروع کر دیا اور قریب تھا کہ نمبر ا گھوڑی نمبر ۲ گھوڑی پکڑ لے اور اپنی گھوڑی واپس لے آئے۔پھر اس کی غیرت نے جوش مارا۔اس نے سوچا کیا کہے گا عرب کہ غلط مشہور تھی۔وہ تو نہیں نمبر 1۔تو چور کو کہنے لگا او خبیث اس قسم کی آواز منہ سے نکال تب یہ تیز دوڑے گی۔چور نے وہ آواز نکالی اور گھوڑی ہوا ہو گئی اور مالک اسے پکڑ نہیں سکا۔چوری کروا دی گھوڑی لیکن نمبر 1 نمبر ا ہی رہی۔اس نے تو چور کی مدد اس طرح کی کہ لے جا میری گھوڑی مگر خدا تعالیٰ تو مالک ہے۔اس نے دینا ہے۔وہ چور کی اس طرح مدد کرتا ہے کہ کہتا ہے یہ دعائیں کرو، اس طرح صدقہ دو، اس طرح میرے حضور قربانیاں دو۔لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ الله بھی مایوس نہ ہونا مجھ سے۔إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا (الزمر: ۵۴) اللہ سب گناہوں کو معاف کر دے گا۔اتنی بڑی بشارت دے دی۔اس خدا سے ہم مانگتے ہیں اور پورے بھروسے کے ساتھ مانگتے ہیں۔اگر مگر لگائے بغیر مانگتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے اس سے۔آپ نے فرمایا ہے مانگو مانگنا تمہارا کام ہے۔اس کی مرضی ہوگی تو دے گا، مرضی ہوگی نہیں دے گا۔مرضی ہوگی تو جس