خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 32
خطبات ناصر جلد هشتم ۳۲ خطبہ جمعہ ۱۹ / جنوری ۱۹۷۹ء کے کہ شرک سب سے بڑا گناہ ہے ) گالیاں مت دو کیونکہ اس طرح بت پرستوں کے جذبات کو ٹھیس لگے گی اور انہیں تکلیف پہنچے گی۔بت میں تو کوئی جذ بہ نہیں ہے کہ اگر اسے گالی دی جائے تو اسے تکلیف پہنچے۔انسان کو تکلیف سے بچانے کے لئے ، کافر کو اور مشرک کو تکلیف سے بچانے کے لئے گالی دینے سے منع کیا۔حالانکہ شرک ایک انتہائی گناہ ہے اور اس کے متعلق اعلان کیا گیا کہ یہ سب سے بڑا گناہ ہے لیکن خدا کہتا ہے کہ شرک کے گناہگا رکو بھی اس دنیا میں عذاب دینا یا آخرت میں جہنم میں پھینکنا میرا کام ہے۔تمہیں یہی ہدایت ہے کہ تم نے کسی کو تکلیف نہیں پہنچانی کیونکہ تم اس عظیم انسان کی طرف منسوب ہوتے ہو جو رَحْمَةٌ لِلْعَلَمینَ بنا کر دنیا کی طرف بھیجا گیا۔اور فرمایا کہ وہ عظیم انسان جیسا کہ انسانوں میں سے غیر مومنوں کے لئے مشفق اور ہمدرد ہے وہ مومنوں کے لئے مشفق اور ہمدرد ہونے کے علاوہ ان سے محبت اور پیار کرنے والا اور ان پر کرم کرنے والا ہے یعنی جہاں تک مومن کا سوال ہے وہ خدا تعالیٰ کی صفت رحیمیت کا مظہر ہے اور جہاں تک انسانوں میں سے کافر کا سوال ہے، اہل کفر کا سوال ہے خواہ وہ مشرک ہی کیوں نہ ہوں یا عملاً اسلام سے باہر ہوں اور فاسق فاجر ہوں ان کے لئے وہ خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت کا مظہر کامل ہے۔آپ نے ان کی ہدایت کے لئے کوشش کی۔ان کے لئے تڑپے، ان کے لئے دعائیں کیں اور ان کے لئے بخع کی حالت پیدا ہوگئی۔یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کو کہنا پڑا کہ تو ان کی خاطر اپنی جان کو ہلاک کر دے گا۔آپ نے ان سے دشمنی نہیں کی اور ہمیں بھی ان سے دشمنی کرنے سے منع کیا اور ان سے شفقت اور ہمدردی اور خدمت کا سلوک کرنے کی تعلیم دی۔یہ ہمدردی یہ شفقت اور یہ خدمت کی تعلیم مومن کے لئے بھی ہے اور کافر کے لئے بھی لیکن مومن کے لئے اس کے علاوہ اور اس سے بڑھ کر محبت کی تعلیم دی اور اخوت کی تعلیم دی اور ان کی طبائع کو اور ان کی عادات کو بدل کر ان کو ایک برادری اور ایک بنیان مرصوصی کی طرح بنا دیا۔پس وہ رحیم ہے۔بڑے عظیم ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ہر انسان کا کام نہیں کہ وہ آپ کی عظمت کو پوری طرح سمجھ بھی سکے اور حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم جوتعلیم اور شریعت لے کر آئے وہ بھی ایک کامل تعلیم اور شریعت ہے اور وہ کامل ہدایت ہے۔اس کامل تعلیم کا انکار کرنے والوں کے متعلق