خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 444 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 444

خطبات ناصر جلد ہشتم ۴ ۴ ۴ کیا جتنا کسی دوسرے رشتہ دار سے کر دیا وغیرہ وغیرہ۔خطبہ جمعہ ۲ نومبر ۱۹۷۹ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں یہ ساری تکالیف اور پریشانیاں جو ہیں یہ دنیا کی جہنم ہے اور مومن دعا یہ کرتا ہے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً کہ اے خدا! اس دنیا کی آگ سے ہمیں بچا۔ہر قسم کی تکلیف، دکھ درد پریشانی جو ہے اس سے تو ہمیں محفوظ رکھ اور ہماری زندگی کبھی بھی تلخ نہ ہو اور انسان یہ دعا کرتا ہے کہ اے خدا! تو ہمیں صحت سے رکھ، ہم سب کو ساری جماعت کو خدا صحت سے رکھے۔ہر نماز میں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں کہ ساری جماعت کو خدا صحت سے رکھے اور بیماروں کو شفا دے۔ہمیں وعدے دیئے گئے کہ تمہارے مال میں کثرت بخشی جائے گی اولاد میں کثرت بخشی جائے گی۔ہم دعائیں کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ جماعت کے ہر فرد کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ان بشارتوں کا وارث بنائے ، عافیت سے رکھے اور پھر ہمیں توفیق دے کہ یہ ساری نعمتیں پانے کے بعد اعمال صالحہ بجالانے والے ہوں اور خدا کے پیار کو حاصل کرنے والے ہوں اور دنیا کے جہنم سے بھی ہم محفوظ رہیں، دنیوی جنت بھی ہمیں ملے لیکن یہاں پر ختم نہ ہوں خدا تعالیٰ کے انعام ہم پر۔جہاں اس دنیا کی جو جہنم ہے اس کی آگ سے ہمیں بچایا جائے۔وہاں مرنے کے بعد کی جو جہنم ہے اُس آگ سے بھی ہمیں بچایا جائے اور جہاں اس دنیا کی جنت ہمیں ملے وہاں مرنے کے بعد کی جنت جو اللہ تعالیٰ کے پیار اور رضا کی جنت ہے وہ بھی ہمیں ملے۔یہ ہے دعا جو ربنا اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ میں سکھائی گئی ہے ہمیں۔اللہ تعالیٰ اس دعا کے ہر پہلو کو سمجھنے اور ہر پہلو سے ہی خدا سے یہ دعا مانگنے کی ہمیں توفیق دے اور اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرے کہ وہ اس دعا کو قبول کرے اور ہمارے لئے ہر دو جہنم کی حفاظت مقدر کی جائے اور ہر دو جنتیں ہمارے نصیب میں ہوں۔خدا کرے ایسا ہی ہو۔روزنامه الفضل ربوه ۱۲ ؍ دسمبر ۱۹۷۹ء صفحه ۲ تا ۵)