خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 438
خطبات ناصر جلد هشتم ۴۳۸ خطبہ جمعہ ۲ نومبر ۱۹۷۹ء کے سامان پیدا کر۔اس طرح پر ہر دو جنتوں کا ہمیں وارث بنا، دنیوی جنت کا بھی اور اُخروی جنت کا بھی اور ہر دو جہنم سے ہمیں محفوظ کر ، دنیوی جہنم سے بھی اور اُخروی جہنم کی آگ اور اس آگ کے عذاب سے بھی ہمیں بچا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ دوسری آیت وَمِنْهُمُ منْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً جو ہے، اس میں رہنا کا لفظ پورے پورے شعور کے ساتھ اور اس کے معنی کو سمجھتے ہوئے بولا گیا ہے اور اس میں تو بہ کی طرف اشارہ ہے۔اس سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ربنا “ اور مانگتے ہیں صرف اس دنیا کے آرام و آسائش کو، نہ انہیں رب کی معرفت حاصل ہوتی ہے نہ اس کے معنی کو وہ پہچانتے ہیں اور نہ اپنے زندگی کے مقصود کا انہیں احساس ہوتا ہے اور نہ اس کے لئے وہ کوشاں ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ تو بہ کا جو اشارہ ہے اس میں ، یہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان ایک وقت تک اللہ کے علاوہ ، رب حقیقی کے علاوہ بعض دیگر ارباب بھی اپنے سامنے رکھتا ہے۔اس نے حقیقی رب، رب کریم کو چھوڑ کے یا اس کے ساتھ ہی دوسرے خدا، ارباب بنالئے ہیں۔تو یہاں جو اشارہ ہے تو بہ کا اس کے یہ معنے ہیں کہ جو ہم نے بہت سے ارباب اس سے پہلے بنائے ہوئے تھے اب ہم ان کو چھوڑتے ہیں اور ان سے تعلق جو تھا ہمارا اس سے تو بہ کرتے ہیں اور اے رب حقیقی ! ربنا ! ہم تیری طرف آتے ہیں اس تو بہ کے بعد۔اور جب یہ حقیقی معنے میں استعمال ہو دعا میں تو اس میں درد بھی ہے اس احساس کی وجہ سے کہ غیر اللہ کو رب بنائے رکھا اور سوز و گداز بھی ہے اس غم کی وجہ سے کہ جو رب حقیقی تھا اس سے پورا اور کامل اور حقیقی اور ذاتی تعلق ہم نے قائم نہیں کیا اور اس ہستی کو جو رب ہے اور بتدریج کمال کو پہنچانے والی اور پرورش کرنے والی ہے اس سے ہم دور رہے اور اس حقیقت کو نہیں پہچانا کہ انسان کی زندگی کا ایک مقصد تھا اور یہی دنیا سب کچھ نہیں تھی۔مرنے کے بعد زندہ رہنا تھا انسان کی روح نے اور خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو بتدریج ارتقائی ادوار میں سے گزرنے کے بعد پہلے سے زیادہ حسن میں، پہلے سے زیادہ لذت والی خاصیت رکھنے میں ہمیں وہ نعماء ملتی تھیں اور ان کو ہم بھول گئے اور اسی کو سب کچھ سمجھ لیا تو اس درد اور سوز وگداز کے ساتھ