خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 432
خطبات ناصر جلد هشتم ۴۳۲ خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۷۹ء اس نے ہمیں یہ تو کہہ دیا کہ میرے عبد بنو میری صفات کا رنگ اپنی خصلتوں پر، اپنے اخلاق پر چڑھاؤ لیکن ایسا کرنے کے سامان پیدا نہیں کئے۔یہ نہیں بلکہ جب اس نے یہ کہا اے انسان! میرا بندہ بن تو ساتھ ہی اس نے اپنا بندہ بننے کے سارے ہی سامان جو ہیں وہ اس کے لئے پیدا کر دیئے۔یہ اصولی طور پر ہر چیز نوع انسانی کی خدمت پر لگی ہوئی ہے اور انفرادی طور پر فردفرد میں جو فرق ہے ہر فرد نے اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے زبانِ حال سے جس چیز کا بھی مطالبہ کیا کہ اے خدا! تیری طرف بڑھنے کے لئے مجھے یہ چاہیے اس نے اس کا ئنات میں اس چیز کو پایا جو پہلے سے موجود تھی اور وہ خدا پر یہ گلہ نہیں کر سکتا کہ مجھے بندہ بننے کے لئے تو کہا گیا ہے لیکن بندہ بننے کے سامان پیدا نہیں کئے گئے۔یہ ایمان باللہ ہے پہلی چیز جوضروری ہے انسان کے لئے اگر وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ بننا چاہتا ہے۔ایمان باللہ سے اور مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلا سے ہمارا دوسرا قدم یہ اٹھتا ہے۔ہماری فطرت کی آواز ہماری عقل کا نتیجہ کہ جب کوئی چیز بھی باطل نہیں۔بے فائدہ اور بے مقصد نہیں تو انسانی زندگی کیسے بے مقصد ہو سکتی ہے جس کے لئے ہر چیز کو پیدا کیا گیا ہے۔اس واسطے ہماری زندگی اس دنیا میں ختم نہیں ہوتی۔واليوم الأخر ایمان بالآخرت ضروری ہو جاتا ہے یعنی حقیقی معرفتِ باری، ایمان بالآخرت پر منتج ہوتی ہے یعنی دوسرا ایمان اس کے پیچھے آتا ہے اور اس سے انسانی عقل انکار نہیں کر سکتی جیسا کہ اس کی فطرت اس سے انکار نہیں کر سکتی۔یہ جو دوسرا پہلو ہے وَالْيَوْمِ الْآخِرِ حشر کا دن، زندہ ہونا اور اس دن خدا سے اس کی بے شمار نعماء کو حاصل کرنا یا اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں اور دوری کی راہوں کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں اس کے قہر کے جلوؤں کا دیکھنا اس کا تعلق ہے وَالْيَوْمِ الْآخِرِ کے ساتھ۔پھر انسان کے دل میں خوف پیدا ہوتا ہے کہ معرفتِ باری کے بعد یہ یقین ہو گیا۔یہ یقین جس کے اوپر بڑا زور دیا ہے اسلام نے۔اس کے بغیر ایمان باللہ بھی نہیں رہتا کیونکہ کامل ایمان جیسا کہ میں نے بتایا ہے کامل ایمان باللہ اس ایمان کو چاہتا ہے کہ مرنے کے بعد ایک اور زندگی ہے اور یوم آخرت ہے اور الساعة ہے اور قیامت ہے مختلف الفاظ میں اور مختلف پیرایوں میں