خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 404 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 404

خطبات ناصر جلد هشتم ۴۰۴ خطبه جمعه ۱۷۵ کتوبر ۱۹۷۹ء ود کے قدموں پر مت چلو اور یہ یادرکھو کہ جو کوئی شیطان کے قدموں پر چلتا ہے شیطان تو بدیوں کا حکم دیتا ہے فحشاء کا حکم دیتا ہے، نا پسندیدہ باتوں کا حکم دیتا ہے وہ اس منکر یعنی نا پسندیدہ بات کا حکم دیتا ہے جس کو خدا بھی پسند نہیں کرتا۔جس کو تمہاری فطرت صحیحہ بھی پسند نہیں کرتی اور وَ لَو لَا فَضْلُ اللهِ عليكم ورحمتہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحم تم پر نہ ہوتا تو کبھی بھی تم میں سے کوئی پاک باز نہ ہوتا۔پاکباز بننے کے لئے خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کی ضرورت ہے۔وَلَكِنَّ اللهَ يُذَبِّي مَنْ يشاء لیکن خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کے بندے اس کی نگاہ میں پاکباز بنہیں اس لئے خدا تعالیٰ نے یہ انتظام کیا ہے کہ خدا کے بندے اس کے فضل اور اس کی رحمت کو جذب کر سکیں۔رحمت اور فضل کو جذب کرنے کے لئے بیسیوں طریق بتائے ہیں یہ اعلان فرمایا :۔قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمُ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان : ۷۸) کہ اگر دعاؤں کا سہارا نہیں لو گے تو خدا تعالیٰ تمہاری کیا پرواہ کرے گا۔اس کا فضل اور اس کی رحمت تمہیں حاصل نہیں ہوگی۔وَلكِنَّ اللهَ يُزَكّي مَنْ يَشَاءُ خدا تعالیٰ جسے پسند کرتا ہے اسے مطہر پاک بنادیتا ہے، پاکباز بنا دیتا ہے اور والله سميع خدا تعالیٰ دعاؤں کو سنے والا ہے۔ان کو صحیح طریق پر دعا کرنے کی توفیق دیتا ان کی دعاؤں کو سنتا اور ان کی دعاؤں کو سن کر شیطانی حملوں سے انہیں محفوظ کر لیتا ہے اور کبر اور غرور ان کی فطرت میں ان کے اعمال میں پیدا نہیں ہوتا اور جیسا کہ خدا نے پسند کیا وہ آسمانوں کی طرف پرواز کریں اور اس کے قرب کو حاصل کریں۔وہ آسمانوں کی طرف پرواز کرتے اور اس کے قرب کو حاصل کرتے ہیں۔زمین کی طرف جھکتے اور اس میں دھنس ہی نہیں جاتے وَاللهُ سَمِيع دعاؤں کو سننے والا ہے اور ظاہری دعاؤں کا نہیں علیہ یہ نہ سمجھنا کہ تمہاری ظاہری، دکھاوے کی جو آہ و بکا ہے وہ اسے پسند آ جائے گی۔وہ تو تمہارے چھپے ہوئے سینے کے رازوں کو بھی جاننے والا ہے۔نیک نیتی کے ساتھ اور خلوص کے ساتھ اور ایثار کے جذبات کے ساتھ اور اسی کے پیار اور اس کے محمد کے عشق میں مست ہو کر اس کے سامنے جھکو۔وہ تمہاری دعاؤں کو قبول کرے گا۔اپنی رحمت اور فضل کا تمہیں وارث بنائے گا اور تمہیں پاک اور مطہر کر دے گا۔سورۂ اعلیٰ میں فرماتا ہے:۔قَد أَفْلَحَ مَنْ تَزَکی (الا علی : ۱۵) جس نے اس طرح تزکیہ اور طہارت حاصل کرنے کی