خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 368
خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۶۸ خطبہ جمعہ ۱۴ ستمبر ۱۹۷۹ء انصار اللہ کے نام سے جو جماعت موسوم ہے ان میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ہر دو پہلو کا تعلق جیسا کہ قرآن کریم نے ہمیں بتایا اس حقیقت سے باندھا گیا ہے، وابستہ کیا گیا ہے کہ بنی نوع انسان کی خیر خواہی اور خدمت کرنی ہے اور نوع انسانی کے سکھ کا سامان پیدا کرنا، ان کے دکھوں کو دور کر کے۔یہ ذمہ داری ڈالی گئی ہے اُمت مسلمہ پر كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (الِ عمران : 11) کے اعلان میں۔خدمت ، خدام الاحمدیہ کا نام بھی یہ ذمہ داری بتاتا ہے، بہترین خدمت انسان دعا کے ذریعہ سے نوع انسانی کی کر سکتا ہے۔انسان یا انسانوں کی کوئی جماعت اپنے طور پر کسی قسم کی کوئی طاقت نہیں رکھتی جب تک اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو تو فیق عطا نہ کرے اور دنیا میں کوئی تبدیلی رونما ہو نہیں سکتی جب تک خدا تعالیٰ اپنے فضل سے اپنی منشا کے مطابق خیر کی تبدیلی رونما کرنے کے سامان پیدا نہ کرے۔اس واسطے سب سے کارگر اور مؤثر حربہ، ہتھیار جو ایک مسلمان کو دیا گیا ، وہ (ایٹم بم نہیں ) دعا کا ہتھیار ہے اور اس سے زیادہ کارگر اور ہتھیار نہیں اور دوسرے نمبر پر جو ہتھیار دیا گیا وہ (ہائیڈ روجن بم کا ہتھیار نہیں یا اس سے بھی مہلک ہتھیار ہے ) بلکہ محبت اور شفقت ، بے لوث خدمت اور لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ (الشعراء: ۴) کی جو کیفیت بیان کی گئی ہے وہ کیفیت سنت نبوی کی پیروی کرتے ہوئے اپنے اندر پیدا کرنا، اس سے تعلق رکھتی ہے۔بعض پہلو ایسے ہیں جو خدام الاحمدیہ سے تعلق رکھنے والے ہیں۔بعض پہلو ایسے ہیں جو انصار اللہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ان اغراض کو سامنے رکھ کے بار بار یاد دہانی کرانے کے لئے یہ اجتماع ہر سال ہوتے ہیں۔جماعت دعا کرے جیسا کہ میں نے شروع میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سب خیر رکھے اور خیر سے یہ اجتماع منعقد ہوں اور خدا تعالیٰ جس مقصد کے لئے یہ اجتماع منعقد ہوتے ہیں اس مقصد کے حصول کے سامان پیدا کرے اور ہر جماعت کو یہ توفیق عطا کرے کہ وہ اس میں حصہ لینے والی ہو اور امرائے اضلاع اور مربیان کو اور خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے عہدیداروں کو اللہ تعالیٰ ہمت عطا کرے کہ وہ اس بات میں کامیاب ہوں کہ کوئی جماعت ایسی نہ رہے جس کا نمائندہ نہ آیا ہو۔