خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 350
خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۵۰ خطبه جمعه ۲۴ /اگست ۱۹۷۹ء سورۃ الرعد کی آیت ۲۳ میں اور باتوں کے علاوہ یہ بھی تاکید ہے کہ وَالَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ۔۔۔۔۔أوليك لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ (الرعد: (۲۳) اور جنہوں نے اپنے رب کی رضا کی طلب میں ثابت قدمی سے کام لیا انہی کے لئے اس گھر کا بہترین انجام مقدر ہے۔تو جو اسباق دیئے گئے ، جو اخلاقی اور روحانی ورزشیں کروائی گئیں ماہ رمضان میں اس کے متعلق خدا تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ انسان ثبات قدم سے عمل کرتا رہے ان پر۔حالات کے مطابق شکل بدل جائے گی لیکن دل نہیں بدلے گا نہ نیتیں بدلیں گی۔اس بنیادی سبق کو مد نظر رکھتے ہوئے اس وقت میں دو باتیں خدام کو دو انصار کو اور دو باتیں جماعت کو کہنا چاہتا ہوں۔خدام کو میں یہ دو باتیں کہنا چاہتا ہوں کہ اوّل کہ عاجزانہ دعائیں سارا سال ہی کرتے رہو۔خدا کے حضور گریہ وزاری کے ساتھ جیسے رمضان میں تم یا تم میں سے اکثر جھکتے رہے۔اللہ کے دامن کو سارا سال ہی تھامے رہنا چھوڑ نا مت۔ہر خیر اس سے مانگو اور خدا کرے کہ ہر خیر اس سے پاؤ اور دوسرے یہ کہ تم خادم ہو اس اُمت کے جس کے متعلق کہا گیا اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ نوع انسان کی بھلائی کے لئے پیدا کی گئی ہے اس اُمت کا وہ حصہ ہو جس کے ذمہ عملاً خدمت کی ذمہ داری ہے۔تمہارا کام ہے خدمت اور یہ بہت سے پہلو اپنے اندر رکھتا ہے۔کسی پہلو کو نظر انداز نہ کرو۔تمہاری خدمت کی بنیاد اس بات پر ہے کہ کسی کو بھی دکھ میں دیکھ کر دکھ میں رہنے نہیں دو گے جب کسی کو دکھ میں پاؤ گے اس کے دکھ کو دور کرنے کی کوشش کرو گے۔اس کی کئی شکلیں ہیں مثلاً ایک گھرانہ ایسا ہے جس کے حالات اس قسم کے ہو گئے عارضی طور پر یا ایک لمبا عرصہ کے لئے عارضی طور پر اس طرح کہ مثلاً بعض دنوں میں بعض بیماریاں وبائی شکل میں آتی ہیں ملیریا ہی آجاتا ہے سارا گھر ملیریا میں پڑا ہوا ہے۔دوالا نے والا کوئی نہیں۔ان کا سودا سلف لانے والا کوئی نہیں۔دوسری خدمت ان کا کرنے والا کوئی نہیں تو تم ان کی دوالا ؤ ان کا سودا سلف لاؤ۔گھر کے اندر کے کام ہیں۔اپنی بہنوں کو ساتھ لے جاؤ جو وہاں ان کے کام کریں۔ان کی اس تکلیف میں جب بیماری انہیں مجبور کرتی ہے، دکھ اٹھانے پر ، ان کے دکھ کو ان کی مددکر کے دور کرو، تمہاری خدمت کی ایک شکل تمہارے پروگرام میں یہ بنی کہ اپنی گلیوں اور سڑکوں کو صاف رکھو اور جو دکھ