خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 349
خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۴۹ خطبه جمعه ۲۴ /اگست ۱۹۷۹ء عاجزانہ دعاؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور نعماء کے حصول کی کوشش کریں خطبه جمعه فرموده ۲۴/اگست ۱۹۷۹ء بمقام مسجد اقصی۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔سال رواں کے ماہِ رمضان کا یہ آخری جمعہ اور آخری روزہ ہے۔رمضان آج ختم ہو رہا ہے لیکن رمضان کی ذمہ داریاں اور رمضان کی برکات ختم نہیں ہوتیں ماہِ رمضان کے خاتمہ پر بلکہ سارا سال چلتی ہیں۔یہ ایک قسم کا ریفریشر کورس ہے یعنی عادت ڈالی جاتی ہے بہت سی عبادات کی اور اُمید رکھی جاتی ہے کہ ایک مومن بندہ سارے سال ان اسباق کو جو رمضان میں دیئے جاتے ہیں بھولے گا نہیں۔انہیں یا در کھے گا اور ان پر عمل کرے گا۔یہ ماہ جو ہے اس میں ایک ہمہ گیر اور ہمہ پہلو مجاہدہ کا نظارہ ہے۔اس غرض سے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا انسان کو حاصل ہو جائے۔روزے ہیں، نوافل ہیں ، کثرت سے تلاوت قرآن کریم ہے، دعا ئیں کثرت سے مانگی جاتی ہیں اور کثرت سے دعا ئیں کرنے کا ماحول پیدا کیا جاتا ہے۔صدقہ و خیرات ہے۔خدمت کے جذ بہ کو ابھارا جاتا اور قربانی اور ایثار پیدا کیا جاتا ہے اور اپنے نفس کی اور اپنے ماحول کی تربیت پر زور دیا جاتا ہے۔مرکزی نقطہ ان تمام عبادات کا یہ ہے کہ اللہ راضی ہو جائے۔اللہ مل جائے ، پھر کسی اور چیز کی ضرور ت نہیں رہتی ، نہ کسی اور ہستی کی ضرورت باقی رہتی ہے۔اس کے لئے ثبات قدم چاہیے۔