خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 347 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 347

خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۴۷ خطبہ جمعہ ۱۷/اگست ۱۹۷۹ء جائے تو پھر باہر نہ نکلے۔(ب) اور یہاں یہ بھی بتایا کہ وہ ایسے باغات ہیں جو ہمیشہ سرسبز رہنے والے اور ہمیشہ ہر آن ثمر آور رہنے والے ہیں۔تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهرُ اس کی تھوڑی سی تفسیر ایک وقت میں پہلے بھی بتا چکا ہوں اور باغات بھی ہمیشہ سرسبز اور ثمر آور یعنی اس کی افادیت پوری کی پوری ہمیشہ رہنے والی ہے خدا تعالیٰ کے حکم اور اس کے فضل کے ساتھ۔( ج ) اور انسان کی جتنی زندگی بھی ابدی ہے وہ اس میں بستے چلے جائیں گے۔( د ) اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو متقی میرے احکام پر عمل کر کے میرے بتائے ہوئے طریقے پر اعمال صالحہ بجالائیں گے ان کے میں ( دوسری جگہ آتا ہے کہ میں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ بھی دوں گا اور پھر اور بھی دوں گا ، فضل دوں گا، مغفرت خدا کے فضل کو کھینچنے والی ہے، جذب کرنے والی ہے۔سترھویں اس سے ہمیں پتا لگا کہ وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِى أُعِدَّتْ لِلْكَفِرِينَ میں وَاتَّقُوا کے کیا معنی ہیں۔یہ ساری تفصیل جو آئی ہے یہ واتقوا کی وضاحت کر رہی ہے اور اس کو بیان کر رہی ہے۔ان ساری تفاصیل کا خلاصہ یہ بنتا ہے کہ تم اپنے ربّ کریم کا دامن پکڑو تو کبھی چھوڑو نہ، وفا کا تعلق پیدا کرو تو بے وفائی کبھی نہ کرو ، ثبات قدم رکھو، اور کامل تو کل اس پر رکھو، کامل بھروسہ اس پر رکھو اس کو سب طاقتوں کا مالک بھی سمجھو اور انتہائی طور پر پیار کرنے والا ، پوری جزا دینے والا بھی سمجھو۔مغفرت میں ڈھانپ لینے والا اپنے فضل سے تھوڑے کئے پر ابدی جنت کا مستحق بنا دینے والا یقین کرو۔بڑا ہی فضل کرتا ہے۔وہ مالک ہے، قادر ہے جو چاہے کرے۔فرما یا اور ست مت ہو۔اس دنیا میں جو خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں ان کے اوپر تو اس دنیا کے حالات پیدا ہوئے ہیں نا۔جب خدا تعالیٰ سے تعلق قائم ہو گیا ایک دفعہ ست مت ہو۔جس کا مطلب ہے کہ اگر مخالف مقابلے پہ اتر آئے تو مقابلہ سے ہمت مت ہارو۔شست مت ہو مقابلہ سے، ہمت مت ہارو اور غم مت کرو اور کچھ اندیشہ مت کرو۔کچھ اندیشہ دل میں نہ لاؤ۔انجام کار غلبہ اس دنیا میں بھی تم ہی کو ہو گا مگر شرط یہی ہے کہ جو تمہیں کہا گیا کہ تقویٰ کی راہوں کو اختیار کر کے