خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 332 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 332

خطبات ناصر جلد هشتم ۳۳۲ خطبه جمعه ۱۰ را گست ۱۹۷۹ء یہاں یہ بتایا کہ ان کو پینے کے لئے ایسی شراب ، ایسا شربت ملے گا۔لدة تشربين جو پینے والوں کی بشاشت اور امنگ اور قوت عمل کو بڑھانے والا ہوگا۔بہت سارے لوگ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں جن کو خدا تعالیٰ نے صحت بھی دی ہے اور ان کو قو تیں بھی دی ہیں لیکن امنگ کوئی نہیں تو یہاں بتایا کہ جو جنتی ہیں ، وہ پوستیوں کی سی زندگی نہیں گزاریں گے۔اُخروی جنت میں بہت زیادہ عمل کی زندگی ہے لیکن ابتلا والا عمل نہیں۔امتحان والا عمل نہیں۔یہ نہیں کہ نئے سرے سے نتیجہ نکلنا ہے۔وہ تو جزا والا عمل ہے خدا تعالیٰ کے ذکر میں ہمہ وقت مشغول رہنا اور جو خدا تعالیٰ حکم دے اس کے مطابق زندگی گزار نامحمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔اُخروی جنت کی باتیں سن لیا کرو بحث نہ کیا کرو کیونکہ وہ ایسی چیزیں ہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنیں جو وہاں جائیں گے (اللہ تعالیٰ ہم سب کو وہاں لے جائے ) وہ آپ ہی معلوم کرلیں گے لیکن وَ اَنْهرُ مِنْ خَيْرٍ لذة للشربین بشاشت اور اُمنگ کو قائم رکھنے والا شربت ان کو وہاں ملے گا۔زندگی قائم رہے گی۔خرابی کوئی نہیں پیدا ہوگی۔زندہ رہیں گے وہ۔پانی سڑنے والا نہیں اور جو قوی ہیں ان کی طاقتیں قائم رہیں گی اور بشاشت اور اُمنگ رہے گی۔ان کا استعمال ہوگا اپنے پورے عروج کے اوپر عمل ہوگا۔وَ انْهُرُ مِنْ عَسَلٍ مُصَفًّى اور جنت میں بیماری کوئی نہیں ہوگی کیونکہ فِیهِ شفاء للناس (النحل : ۷۰) دوسری جگہ فرما کے اسی آیت کی تفسیر اللہ تعالیٰ نے کر دی ہے لیکن انسانی ہاتھ سے صاف کیا ہوا شہد بعض دفعہ بہت سارے بیکٹیریا (Bacteria) بھی اپنے ساتھ لے آتا ہے۔اس واسطے خالی عسل “ نہیں کہا بلکہ یہ کہا کہ ایسا شہد ہے جسے خدائی حکمت نے اس طرح صاف کیا ہے کہ وہ محض شفا ہے۔اس کے اندر کوئی خرابی پیدا ہی نہیں ہو سکتی اور وَلَهُمْ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ جو وہ اعمال کرتے رہے ہوں گے اس دنیا میں ہر عمل کی جزا، ہر عمل کا پھل ان کو اس جنت میں ملتا رہے گا۔ان ساری چیزوں کے باوجود ایک اور چیز کی ضرورت تھی اور وہ یہ کہ انسان غلطیاں کرتا ہے، کوتاہیاں کرتا ہے، گناہ سرزد ہو جاتے ہیں، بھول چوک انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔بشری کمزوریاں ہیں اس کے ساتھ جب تک خدا تعالیٰ کی مغفرت نہ ہو یہ کچھ مل نہیں سکتا تو یہاں ہمیں تسلی دے دی وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ تم گھبراؤ نہیں