خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 326 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 326

خطبات ناصر جلد هشتم ۳۲۶ خطبه جمعه ۱۰ راگست ۱۹۷۹ء گے ملے گا۔وہ اس میں ہمیشہ کے لئے بستے چلے جائیں گے۔یہ ایک ایسا وعدہ ہے جس کا پورا کرنا تیرے رب پر واجب ہے۔پھر فرمایا۔یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے اس کے مناسب حال عمل کئے ان کو نعمت والے باغات ملیں گے جن میں وہ رہتے چلے جائیں گے۔یہ اللہ تعالیٰ کا کیا ہوا پختہ وعدہ ہے اور وہ غالب اور بڑی حکمت والا ہے۔( یہ دوبارہ آ گیا ) یہ جو آیت ابھی میں پڑھ رہا تھا دوبارہ اس میں تین شرائط بیان ہوئیں۔ایک یہ کہ ایمان لا نا فرض ہے وعدہ کے پورا ہونے کے لئے پختہ ایمان ضروری ہے بغیر ایمان کے کسی شخص کے حق میں خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ پورانہیں ہوگا۔دوسرے یہ کہ ایمان کے مطابق اپنی زندگی گزارنی ہوگی۔ایمان کے خلاف تمہاری زندگی کا کوئی کام نہ ہو۔اور تیسرے یہ کہ موقع اور محل کے مطابق کیونکہ اسلامی تعلیم میں اس قسم کی سختی اور کھچاؤ نہیں جس طرح بعض دوسری جگہ ہمیں نظر آتا ہے بلکہ موقع اور محل کو ملحوظ رکھنا ضروری قرار دیا گیا ہے جیسے کہ فرمایا:۔فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَاجْرُهُ عَلَى اللهِ (الشوریٰ : ۴۱) جو معاف کرے اور اس کو یقین ہو کہ معافی دے دینا اصلاح کا موجب ہو گا تو اس کو اجر ملے گا۔جو معاف کرے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ معافی دینا اصلاح کا موجب نہیں ہوگا بلکہ فساد کو بڑھانے والا ہو گا تو خدا تعالیٰ اس کو اجر نہیں دے گا۔تو موقع اور محل کے مطابق اس کے اعمال ہوں۔یہ شرائط ہیں وعدہ کے پورا ہونے کی اور وعدے یہ ہیں :۔جَنَّتُ النَّعِيمِ نعمت والے باغات نعیم کے معنی مفردات راغب میں لکھے ہیں النِّعْمَةُ الكَثِيرَةُ یعنی ایسی جنتیں جن میں خدا تعالیٰ کی کثرت کے ساتھ نعمتیں نازل ہونے والی ہوں۔دوسرا وعدہ یہ ہے کہ :۔66 خلِدِينَ فِيهَا کہ جو ہمیشہ کا ٹھکانہ ہے جس وقت جنتی جنت میں چلا جائے گا تو اسے باہر نہیں نکالا جائے گا۔یہ وعدہ ہے۔ایک یہ کہ وہ ایسی جنات ہیں جن میں کثرت سے خدا تعالیٰ کی نعماء کے جنتی وارث ہوں