خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 314
خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۱۴ خطبه جمعه ۳/اگست ۱۹۷۹ء ایک عظیم وعدہ ہے۔وعدہ کیا گیا انتم الاعلون (ال عمران :۱۴۰) زندگی کے ہر شعبہ میں فوقیت ہمیشہ تمہیں ہی حاصل رہے گی مگر ایک شرط لگائی اِن کُنتُم مُّؤْمِنِين اگر تم ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے والے ہو گے۔یہ وہ نذیر والا حصہ آ گیا ان كُنْتُمْ مُؤْمِنین میں تو وعدے تو بے شمار ہیں اور انسان کی کوتاہیاں اور کمزوریاں اور غفلتیں بھی کم نہیں۔اس واسطے دعاؤں کا سہارا لینا ضروری ہے۔اسی واسطے کہا گیا مَا يَعُبُوا بِكُمُ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان: ۷۸) اس میدان میں ہمیں قرآن کریم نے یہ دعا سکھائی رَبَّنَا وَاتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيمَةِ (ال عمران : ۱۹۵) کہ اے ہمارے خدا ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں، آپ کے سمندر میں تو سارے پچھلے انبیاء مدغم ہو جاتے ہیں کیونکہ نَصِيبًا مِّنَ الكتب ہی ان کو ملا تھا یعنی قرآن کریم کا ایک حصہ اور قرآن کریم کی برکتوں کا ایک حصہ ہی ان کو دیا گیا تھا ، تو جو ) تیرے رسولوں کے ذریعے ہمیں وعدے ملے ہیں ہمیں وہ سارا کچھ دے ایسے حالات پیدا کر دے ہمیں توفیق دے کہ ہم ان شرائط کو پورا کرنے والے بنیں جن شرائط کی ادائیگی ان وعدوں کے ساتھ لگائی گئی ہے اور وہ تمام وعدے ہمارے ہماری نسلوں کی زندگی میں پورے ہوں اور یہ نہ ہو کہ قیامت کے دن جب خدا کے حضور ہم سب اکٹھے ہوں تو کہا جائے کہ بشارتیں تو تمہیں بہت دی گئیں وعدے تو خدا تعالیٰ نے تم سے بہت عظیم کئے تھے لیکن اے نادانو ! تم نے اپنی غفلتوں، کوتاہیوں اور گناہوں کے نتیجہ میں اور خدا تعالیٰ کے احکام کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان وعدوں سے حصہ نہ لیا اور اس طرح ہم قیامت کے دن ذلیل اور رسوا ہو کے رہ جائیں۔تو ایک یہ دعا ہے جو بڑی وسعتیں اپنے اندر رکھتی ہے کہ اے خدا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ تو نے بے انتہا بشارتیں ہمیں دیں، ہم سے وعدے کئے (وعدہ‘ کے لفظ کے ساتھ بھی قرآن کریم نے اُمت محمدیہ کو بشارتیں دی ہیں) ایسا کر اور ہمیں توفیق دے کہ ہم شرائط کو پورا کریں ہم تیری راہ میں وہ قربانیاں دیں جن کا تو ہم سے مطالبہ کرتا ہے ہم تیرے پیار کے حصول کے لئے اپنے نفسوں پر اس موت کو طاری کریں جو تیری محبت کو پیدا کرنے والی ہے اور ایک نئی زندگی جس کے نتیجہ میں تیری طرف سے عطا ہوتی ہے اور وہ سارے وعدے ہماری زندگیوں میں